امریکی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ کے 100 دنوں کے دعوؤں کی حقیقت بے نقاب کر دی

امریکی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ کے 100 دنوں کے دعوؤں کی حقیقت بے نقاب کر دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 100 دن کی کارکردگی کو "بے مثال" قرار دیتے ہوئے اس کامیابی کا جشن منایا تھا، لیکن ایک امریکی اخبار کی رپورٹ نے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے، اور حقیقت کو اس کے برعکس بیان کیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے 100 دنوں میں اسٹاک مارکیٹس 1974ء کے بعد سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئیں، اور اس دوران ٹیرف کے اقدامات نے عالمی مالیاتی نظام پر سنگین اثرات مرتب کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس اینڈ پی انڈیکس میں 7 فیصد کی کمی آئی، جو 1974ء کے بعد سب سے بڑی کمی تھی۔اخبار نے یہ بھی بتایا کہ پبلک کمپنیوں کی مالیت سے 6.5 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ کا صفایا کر دیا گیا، جس سے عالمی اقتصادی صورتحال پر منفی اثرات پڑے۔ حالانکہ اسٹاک مارکیٹوں نے کچھ حد تک بحالی دکھائی ہے، لیکن ٹیرف کی پالیسی کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے 100 دن مکمل ہونے پر ایک ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہماری حکومت کے کامیاب ابتدائی 100 دن عقل کا انقلاب ہیں"، اور اس موقع پر انہوں نے ان دنوں کو ملکی تاریخ کے سب سے کامیاب دن قرار دیا تھا۔نتیجہ: اگرچہ ٹرمپ نے اپنی کارکردگی کو کامیاب قرار دیا، امریکی اخبار کی رپورٹ نے ان دعووں کو حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے اقتصادی شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنے کی نشان دہی کی ہے۔