دشمن کو جغرافیائی انٹیلی جنس اور حقیقی وقت میں فوجی اہداف کی نگرانی کا موقع مل سکتا ہے
حساس علاقوں سے لائیو اپڈیٹس نہ دی جائیں‘قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہو سکتا ہے:نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خطے میں بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر ’’نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم‘‘ نے ایک ہنگامی نوعیت کی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے میڈیا اداروں، فری لانس صحافیوں، ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز اور عوام کو فوجی سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی قسم کے مواد کو شائع یا شیئر کرنے میں حد درجہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب سوشل میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر فوجی نقل و حرکت اور حساس عسکری کارروائیوں کی ویڈیوز، تصاویر اور تبصروں کی گردش میں تیزی دیکھی گئی ہے۔نیشنل سرٹ کے مطابق، ایسے انکشافات، چاہے دانستہ ہوں یا نادانستہ، قومی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتے ہیں، آپریشنل افادیت کو متاثر کر سکتے ہیں اور دشمن عناصر کے لیے قیمتی انٹیلی جنس معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ حساس معلومات کے بے قابو پھیلاؤ سے نہ صرف عسکری منصوبہ بندی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ دشمن کو جغرافیائی انٹیلی جنس اور حقیقی وقت میں فوجی اہداف کی نگرانی کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گمراہ کن معلومات، جھوٹی خبریں اور مصنوعی میڈیا جیسے ’’ڈیپ فیک‘‘ ویڈیوز کے بڑھتے ہوئے خطرات بھی عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔نیشنل سرٹ نے ہدایت کی ہے فوجی سرگرمیوں سے متعلق کوئی بھی ویڈیو یا تصویر بنانے اور شیئر کرنے سے گریز کیا جائے، حساس علاقوں سے لائیو اپڈیٹس نہ دی جائیں، اور کسی بھی آڈیو ویڑوئل مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کی جائے۔ ایڈوائزری میں ڈیپ فیک کی شناخت کے لیے خصوصی ٹولز استعمال کرنے، خبر شائع کرنے سے قبل کئی مراحل پر ایڈیٹوریل جائزے لینے اور صحافتی اخلاقیات کی مکمل پاسداری پر بھی زور دیا گیا ہے۔