بنگلہ دیش میں طلبہ رہنماؤں نے، جنہوں نے گزشتہ سال وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا، ایک نئی سیاسی جماعت "جاتیا ناگورک پارٹی" (نیشنل سٹیزن پارٹی) کی بنیاد رکھی ہے۔
پارٹی کا پس منظر اور قیادت: یہ جماعت ان طلبہ پر مشتمل ہے جنہوں نے "امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ" (Students Against Discrimination - SAD) کے بینر تلے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کیا تھا، جو بعد میں ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوا۔ اس تحریک کے نتیجے میں اگست 2024 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینی پڑی۔پارٹی کی قیادت ناہید اسلام کر رہے ہیں، جو کنوینر کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ اختر حسین کو سیکریٹری نامزد کیا گیا ہے۔ اختر حسین ڈھاکہ یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے سابق سوشل سروسز سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔
پارٹی کے مقاصد اور اہداف: جاتیا ناگورک پارٹی کا مقصد بنگلہ دیش کی سیاسی منظر نامے میں تبدیلی لانا ہے، جو دہائیوں سے شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اور ان کی حریف خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے زیرِ اثر رہا ہے۔ پارٹی کا منشور جمہوری اصولوں، مساوات اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ہے۔ ناہید اسلام نے کہا ہے کہ ملک کو ایک نئی جمہوریہ کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے سب سے پہلے ایک دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔
آئندہ انتخابات میں شرکت: جاتیا ناگورک پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں متوقع عام انتخابات میں حصہ لے گی۔ عبوری حکومت، جس کی سربراہی نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، نے 2025 کے آخر تک انتخابات کرانے کا عندیہ دیا ہے۔
عوامی ردعمل: پارٹی کے افتتاح کے موقع پر ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ شرکاء نے بنگلہ دیشی پرچم کے رنگوں پر مشتمل لباس پہن کر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ یہ عوامی شرکت ظاہر کرتی ہے کہ نئی جماعت نوجوانوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جو روایتی سیاست سے مایوس ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
مستقبل کے امکانات: جاتیا ناگورک پارٹی کا قیام بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اگر یہ جماعت اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتی ہے تو ملک کی سیاسی حرکیات میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں، جو جمہوری اقدار اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ہوں گی۔