عدالت نے شہر کے 18 مقامات پر ٹریفک جام ختم کرنے کے پلان اور واسا سے گندے نالے انڈر گرائونڈ کرنے کے حکم پر رپورٹ مانگ لی
پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پارکنگ سٹینڈز بنانے کی بھی ہدایت ‘ٹریفک وارڈنز کا سروس سٹرکچر جلد بنایا جائے:جسٹس شاہد کریم
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے سکولوں کی چھٹی کے دوران سروس روڈ کو ون وے کرنے اور خلاف ورزی پر 10 ہزار روپے جرمانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے ہدایت دی ایک کیمرہ نصب کر کے مانیٹرنگ کی جائے اور خلاف ورزی پر فوری جرمانے کیے جائیں۔لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک کے حوالے سے شہری ہارون فاروق کی درخواستوں پر سماعت کی۔ممبر جوڈیشل کمیشن نے دوران سماعت بتایا کہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ اسکولز ڈراپ لائنز بنائیں لیکن ایل ڈی اے نے سکولز کو نوٹس جاری کر کے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ چیف ٹان پلانر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے۔ وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ چار کنال والے اسکولز کو ڈراپ لائنز بنانے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اسکولوں کی چھٹی کے وقت ایک مکمل ٹریفک پلان ہونا چاہیے۔ اسکول انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر معلوم کیا جائے کہ ان کے چھٹی کے اوقات کیا ہیں۔عدالت نے تجویز دی کہ اگر ایل ڈی اے اسکولز کی چھٹی کے وقت ٹریفک کو ون وے کر دے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں‘ ہائی کورٹ نے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے میچز کے دوران بہترین ٹریفک انتظامات کی تعریف کی ہے۔لاہور ہائی کورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے آئندہ سماعت پر عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کر لی۔عدالتِ عالیہ نے ٹریفک وارڈنز کو ہیلتھ الائونس فراہمی کا عمل تیز کرنے کا حکم بھی دیا ہے، لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت کی ہے وارڈنز کا سروس اسٹرکچر جلد بنایا جائے۔عدالت نے شہر کے 18 مقامات پر ٹریفک جام ختم کرنے کے پلان اور واسا سے گندے نالے انڈر گرانڈ کرنے کے حکم پر بھی رپورٹ مانگ لی، عدالتِ عالیہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پارکنگ سٹینڈز بنانے کی بھی ہدایت کر دی۔