وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے پشاور پریس کلب کے وفد نے ملاقات کی، جس میں صحافیوں کی فلاح و بہبود اور میڈیا کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق وفد نے صحافیوں کی فلاح کے لیے حکومتی اقدامات پر وزیراعلیٰ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پشاور پریس کلب کی نئی عمارت کا جلد سنگِ بنیاد رکھنے اور پشاور کے صحافیوں کے لیے الگ انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے سے اصولی اتفاق کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت آزاد، ذمہ دارانہ اور خودمختار صحافت کے فروغ کے ساتھ صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کارکن صحافیوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا کالونیز کی فزیبلٹی، ڈیزائن اور قیام کے لیے 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ کے مطابق پشاور پریس کلب کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے 15 کروڑ روپے، صوبے کے ضلعی پریس کلبوں کی بحالی کے لیے 30 کروڑ روپے اور انفارمیشن سیکٹر میں جدت و ترقی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کی مالیت 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کے بقایا جات کی ادائیگی کو کارکن صحافیوں کے واجبات اور کم از کم اجرت کی ادائیگی سے مشروط بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کی ترقی کے ساتھ کارکن صحافیوں کے بہتر حالاتِ کار اور فلاح و بہبود بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے نیو پشاور ویلی سٹی میڈیا انکلیو کے منصوبے پر صحافیوں کو اعتماد میں لینے، قواعد و ضوابط کے مطابق پیش رفت یقینی بنانے اور صحافیوں کے لیے مطالعاتی دوروں کے انعقاد کی بھی ہدایت کی۔ملاقات کے اختتام پر پشاور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری نے وزیراعلیٰ کو پریس کلب کے دورے اور نئی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھنے کی دعوت دی۔