نوٹیفکیشن مارچ کا ہے تو فروری میں لیوی وصول نہیں کی جا سکتی وفاقی آئینی عدالت

لیوی کی کیلکولیشن کس طرح کی گئی اس سے متعلق کوئی دستاویز جمع نہیں کروائی گئی، جس بابو نے ڈرافٹنگ کی ہوگی اس سے پوچھا جائے
 سمری ، ڈرافٹنگ اور دیگر دستاویزات ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھیں؟ دستاویزات ہمارے سامنے بھی نہیں:جسٹس عامرفاروق‘فریقین کو نوٹس جاری
 اسلام آباد (آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے نجی پاور پلانٹس پر لیوی نفاذ سے متعلق ہائیکورٹس فیصلہ کیخلاف وفاق کی درخواست پر نیپرا سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔جبکہ جسٹس عامر فاروق نے کئی سوالات بھی اٹھا دیے ہیں اور کہاہے  لیوی کا نوٹیفکیشن مارچ کا ہے تو فروری میں لیوی وصول نہیں کی جا سکتی۔کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔جسٹس عامر فاروق نے پوچھاکہ حکومت کا لیوی کا نوٹیفیکشن کب کا ہے،  اوگرا ہر پاور پلانٹ کی پاور جنریشن کاسٹ فائنل کرتا ہے؟ٹیرف سب پرائیویٹ پاور پلانٹس کا ایک ہے یا الگ الگ ہے؟ ، کمپنیز وکیل  نے بتایا  ہر پاور پلانٹ کا نیپرا ٹیرف الگ ہوتا ہے۔لیوی کا نوٹیفکیشن مارچ کا ہے تو فروری میں لیوی وصول نہیں کیا جا سکتا،لیوی کی کیلکولیشن کس طرح کی گئی اس سے متعلق کوئی دستاویز جمع نہیں کروائی گئی، جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ جس بابو نے ڈرافٹنگ کی ہوگی اس سے پوچھا جائے، سمری ، ڈرافٹنگ اور دیگر دستاویزات ہائیکورٹ میں جمع کروائے تھے؟ دستاویزات ہمارے سامنے بھی موجود نہیں۔جب ایک چیز سامنے ہی نہیں تو آپ کیا لینے آئے ہیں ،