ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد انٹر سٹی بس سروسز نے بھی اپنے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عوام پر سفری اخراجات کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
کرایوں میں کتنا اضافہ ہوا؟
مسافروں کا کہنا ہے کہ کرایوں میں 200 سے 500 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے:
ایک مسافر نے بتایا:"ہم صادق آباد 2 ہزار روپے میں آئے تھے، اب واپسی کا کرایہ 2,300 روپے مانگا جا رہا ہے۔"
دوسرے مسافر نے شکوہ کیا:"ہم میرپور خاص سے 2,500 روپے میں آئے تھے، اب واپس جانے کے لیے 3,000 روپے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔"
عوامی ردعمل:
کرایوں میں اچانک اضافے پر مسافر شدید پریشان اور ناراض نظر آ رہے ہیں۔
کئی افراد نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:
"مہنگائی نے پہلے ہی جینا دوبھر کیا ہوا ہے، اب سفر بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔"
"ہم مزدوری کرنے آتے ہیں، اگر کرایہ ہی آدھی کمائی لے جائے تو کیا فائدہ؟"
ٹرانسپورٹرز کا مؤقف:
ٹرانسپورٹ مالکان اور ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ:
"پیٹرول، ڈیزل، انجن آئل، پرزہ جات اور ورکشاپ سب مہنگے ہو چکے ہیں۔"
"کرایے بڑھانا ہماری مجبوری ہے، ہم نقصان میں سفر نہیں کرا سکتے۔"
"اگر حکومت سبسڈی دے یا قیمتیں کم کرے تو ہم بھی کرایے واپس کم کر دیں گے۔"
حکومت کا کردار:
ابھی تک اس حوالے سے حکومت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باقاعدہ نوٹس یا کرایہ کنٹرول حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ مسافر مطالبہ کر رہے ہیں کہ:
کرایوں میں کمی کے لیے ضلعی ٹرانسپورٹ اتھارٹی متحرک ہو۔
پیٹرولیم قیمتوں میں عوامی ریلیف کو مدِنظر رکھا جائے۔
نتیجہ:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی مالکان ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی مہنگے سفر کے ذریعے متاثر کر رہا ہے۔ جب تک حکومت اس معاملے پر کوئی پالیسی وضع نہیں کرتی، عوامی مشکلات بڑھتی رہیں گی۔