جوڈیشل کمیشن نے جسٹس سید محمد عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تعیناتی کا پس منظر:
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں عہدے کے لیے مختلف امیدواروں پر غور کیا گیا .اس اجلاس میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس ارشد علی اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کے نام زیرِ غور تھے، جن میں سے بالآخر جسٹس عتیق شاہ کو افضلیت دی گئی ۔
عہدہ سنبھالنے کا وقت:
جسٹس عتیق شاہ نے 14 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا ۔
اب اس فیصلہ کی روشنی میں انہیں مستقل چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہونے کا راستہ ملے گا۔
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کا پس منظر:
پیدائش اور تعلیم: 12 اکتوبر 1968 کو پیدا ہوئے، ایل ایل بی یونیورسٹی آف پشاور سے حاصل کی ۔
عدالتی ترقی: مارچ 2017 میں پی ایچ سی کے جج مقرر ہوئے، اور اس وقت وہ سینئر ترین ججز میں سے ایک ہیں ۔
قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے، انہوں نے پشاور ہائی کورٹوں میں متعدد اہم مقدمات کی سماعت کی، پیشہ ورانہ ساکھ بھی قائم کی ۔
موزوں تعیناتی پر قانونی و عدالتی حلقوں کی رائے:
ترقی یافتہ شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل کے طور پر اس فیصلے کو سراہا گیا، خاص طور پر سینئرٹی اور تجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنی بنوں دورے کے دوران ان سے ملاقات کی اور انتظامی و عدالتی اہلیت پر تفصیلی گفتگو کی ۔
نتیجہ:
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے 14 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا تھا، اور آئندہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں وہ مستقل چیف جسٹس کے طور پر پشاور ہائی کورٹ کی قیادت کریں گے۔