تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے سے لگژری اپارٹمنٹ بلڈنگ اور شاپنگ مال کو نقصان — اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ

تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے سے لگژری اپارٹمنٹ بلڈنگ اور شاپنگ مال کو نقصان — اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ

اسرائیلی روزنامہ ہآآریتز اور چینل 12 کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایران کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں تل ابیب میں واقع کریا آئی ڈی ایف (اسرائیلی ڈیفنس فورس) ہیڈکوارٹر کے قریب ایک 32 منزلہ اپارٹمنٹ بلاک اور ایک مشہور شاپنگ مال کو بیلسٹک میزائل حملے میں شدید نقصان پہنچا۔

پہلے چھپائی گئی تفصیلات
یہ تفصیلات جنگ کے دوران عوام کے ساتھ ظاہری طور پر شیئر نہیں کی گئیں۔ اسرائیلی حکام نے معلومات کو محدود رکھنے کی پالیسی اپنائی، تاکہ ایران ان مقامات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اپنی میزائل حملوں کی درستگی میں استعمال نہ کر سکے۔

32 منزلہ اپارٹمنٹ پر حملہ
رپورٹ کے مطابق، ایک 32 منزلہ لگژری اپارٹمنٹ بلڈنگ، جو کپلان اسٹریٹ پر آئی ڈی ایف ہیڈکوارٹر کے داخلی راستے کے قریب واقع ہے، کو براہ راست ایرانی بیلسٹک میزائل کا نشانہ بنایا گیا۔

میزائل کے اثر سے عمارت میں آگ بھڑک اٹھی،
رہائشیوں کو فوری طور پر نکالا گیا،
اندرونی حصے میں کئی منزلیں متاثر ہوئیں۔
'ازریلی مال' کو بھی نقصان
چینل 12 کی علیحدہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب میں واقع معروف 'ازریلی مال'، جو کریا بیس کے بالکل قریب ہے، بھی ایرانی حملے میں متاثر ہوا۔

اگرچہ مال کی مرکزی عمارت محفوظ رہی،
سڑک سے منسلک سٹور فرنٹس کو شدید نقصان پہنچا،
ابتدائی اندازوں کے مطابق نقصان کی مالیت ایک ملین شیکل سے زائد ہے۔
لوٹ مار کا واقعہ
رپورٹ کے مطابق، میزائل حملے کے چند روز بعد، لوٹیروں نے تباہ شدہ دکانوں کو نشانہ بنایا اور وہاں سے سامان اور نقدی چوری کر لی۔

 جنگ کا مجموعی جائزہ
ایران نے جنگ کے دوران اسرائیل پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے۔
ان حملوں میں 28 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
کئی اہم شہری اور عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
 تجزیہ: کیوں چھپائی گئیں یہ معلومات؟
اسرائیلی دفاعی حکام نے معلومات کو عوام سے جان بوجھ کر پوشیدہ رکھا تاکہ ایران کو جنگی نقصانات سے متعلق ٹیکنیکل فیڈبیک نہ مل سکے، جس کی مدد سے وہ اپنے میزائل سسٹم کو بہتر بنا سکتے تھے۔