وفاقی وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 2.5 سے 3 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کا فوری حل ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ تعداد تعلیم کے نظام کی ناکامی اور وسائل کی کمی کا غماز ہے۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں اور اس کے بعد صوبوں کو اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، تعلیم کا بجٹ بڑھنا چاہیے تاکہ اسکولوں کے انفراسٹرکچر اور تدریسی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔وزیرِ تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی حکومت صوبوں کی مدد کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے گی، اور تعلیم کے شعبے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ذاتی ایجنڈا نہیں ہے، بلکہ ان کا مقصد صرف پاکستان کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہے تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم حاصل ہو سکے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے، بلکہ مسئلہ وسائل کی تقسیم کا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وسائل کی بہتر تقسیم کی جائے تاکہ تمام بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
آخر میں، وزیرِ تعلیم نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مستقبل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پارٹی کو اپنے معاملات میں آزادی حاصل ہے۔