وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے منصوبے کا افتتاح کیا، جس کا مقصد کاشتکاروں کو جدید توانائی کے ذرائع فراہم کرنا اور زرعی پیداوار کی لاگت کو کم کرنا ہے۔
منصوبے کے پہلے فیز میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں 8 ہزار زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے قرعہ اندازی کی گئی، جس میں سب سے پہلے اٹک کے محمد نواز کا نام نکلا۔ قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے کاشتکاروں کو متعلقہ ضلع کے وینڈر کا انتخاب کرنے کی سہولت دی جائے گی تاکہ وہ سولر سسٹم کی تنصیب کروا سکیں۔اس منصوبے کے تحت حکومت پنجاب نے زرعی ٹیوب ویلز کے سولر سسٹم کے لیے سبسڈی فراہم کی ہے۔ 10 کلو واٹ کے سولر سسٹم کے لیے 5 لاکھ روپے، 15 کلو واٹ کے سولر سسٹم کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار روپے اور 20 کلو واٹ کے سولر سسٹم کے لیے 10 لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد کاشتکاروں کو مہنگے ڈیزل کے بجائے سستی اور قابل تجدید توانائی فراہم کرنا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف فصلوں کی پیداوار میں کمی آئے گی بلکہ کاشتکاروں کی مالی حالت میں بھی بہتری آئے گی۔ اس منصوبے کو جون 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے 87 فیصد ڈیزل سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویلز اور 13 فیصد بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلز شمسی توانائی پر منتقل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو مختلف سکیموں جیسے کسان کارڈ، ایگریکلچر میکانیائزیشن اور ایگری انٹرن شپ سے بھی فائدہ پہنچے گا، جس سے ان کے کاروباری حالات میں بہتری آئے گی۔مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کا منصوبہ کاشتکاری میں انقلاب لائے گا، اور یہ کاشتکاروں کی زندگی میں سہولتیں اور بہتری لے کر آئے گا۔