امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 فروری سے تیل اور گیس پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے سٹیل، المونیم اور تانبے پر بھی ٹیرف لاگو کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ اقدام امریکی معیشت میں درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیرف اقدامات یورپی یونین پر بھی لاگو ہوں گے، اور اس سے قلیل مدتی خلل پڑ سکتا ہے لیکن مارکیٹ کے ردعمل پر انہیں کوئی تشویش نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان اقدامات سے عالمی تجارتی نظام میں کچھ مشکلات آئیں گی، لیکن وہ اس پر فکر مند نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ روس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت چل رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس مسئلے کا حل نکل آئے گا۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا رویہ اچھا نہیں رہا اور وہ اس بارے میں مزید اقدامات کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیرف کے نفاذ پر کینیڈا، میکسیکو اور چین کچھ نہیں کر سکتے اور ان کے لیے اس فیصلے کا کوئی مقابلہ ممکن نہیں ہے۔ٹرمپ نے بائیڈن دور میں محکمہ انصاف کے سیاسی انتقام کا بھی ذکر کیا اور اس پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے سیاسی وجوہات کی بنا پر کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے ان کی پارٹی اور سیاسی مشیروں کو نقصان پہنچا۔
یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب امریکی حکومت نے یکم فروری سے میکسیکو اور کینیڈا پر 25 فیصد جبکہ چین پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔