اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ کے جج جسٹس احسن اشتیاق ابراہیم نے تین رکنی بینچ کی جانب سے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر قبضے کا تنازعہ ملزمان کی موت سے ختم نہیں ہوتا، پشاور ہائی کورٹ اس معاملے کا قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کرے۔ زمین پر غیر قانونی قبضہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مجرمانہ سزا کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے سول نتائج جاری رہتے ہیں۔ اس لیے ملزم کی موت کے بعد بھی قبضہ بحال کرنے کی اپیل قابل سماعت ہے۔سپریم کورٹ نے 21 مارچ 2022 کو پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کو جزوی طور پر ایک طرف رکھ دیا، اور متنازع اراضی پر قبضے کی بحالی کے سوال کی نئے سرے سے جانچ کا حکم دیا۔جسٹس احسن اشتیاق ابراہیم نے تین رکنی بینچ کی جانب سے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ زمین پر غیر قانونی قبضہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مجرمانہ سزا کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے سول نتائج جاری رہتے ہیں