سماجی، معاشرتی، معاشی یا انتظامی رکاوٹ اس بیماری کے خلاف ہماری جنگ کی راہ میں حائل نہیں ہوگی:وزیراعظم

ایڈز جیسے بڑے خطروں کا خاتمہ کرینگے‘شہبازشریف
 اس بیماری کی طرف عوامی رد عمل اور رویہ کو تبدیل کرنا نہایت ضروری ، جدید سہولتیں کو اپنانے اور معاشرتی سطح پر باہمی تعاون کو بڑھاتے ہوئے عوامی سطح پر اس بیماری کی طرف رد عمل کو تبدیل کیا جا سکتا ہے
 اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ایڈزکے عالمی دن پر پاکستان اقوام عالم کے ساتھ بھرپور آواز میں اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی صحت کے لیے ایڈز جیسے بڑے خطروں کا خاتمہ کریں گے اور اس بیماری سے خلاف تحفظ کو سب تک پہنچایا جائیگا۔ اس سال یہ دن ''رکاوٹوں کو عبور کرنا اور ایڈز کے کی طرف برتاؤ کو تبدیل کرنے کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔ یہ عنوان نئے اٹھنے والی مشکلات سے نئے عزم کے ساتھ نبرد آزما ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اور یاد دلاتا ہے کہ رکاوٹوں, بیماریوں,مشکلات اور سماجی عدم مساوات کے باوجود تمام شہریوں کی صحت اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہونا چاہیے۔ ایچ۔ آئی۔وی کی وبا جہاں دنیا بھر میں نظام صحت کی افادیت اور موثر کارکردگی کا امتحان لے رہی ہے، وہیں یہ ہمیں اس بیماری سے مقابلہ کرنے اور نظام صحت کو مزید موثر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کی یاد دہانی بھی کراتی ہے۔ اس بیماری کی طرف عوامی رد عمل اور رویہ کو تبدیل کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس تناظر میں علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے، جدید سہولتیں کو اپنانے اور معاشرتی سطح پر باہمی تعاون کو بڑھاتے ہوئے تمام طبقات تک پہنچنے سے عوامی سطح پر اس بیماری کی طرف رد عمل کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔حکومتی توجہ جہاں نظام صحت کو موثر اور افادیت کو بڑھانے اور عوام تک اس کی رسائی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے، وہی ایچ۔ آئی۔ وی سے متاثرہ افراد کی آواز کو توجہ دینا بھی نا گزیر ہے۔صحت کا تخفظ بنیادی شہری حقوق میں شامل ہے۔ تمام شہری بالخصوص کمزور اور محروم طبقات تک بیماری کی روک تھام، تشخیص، علاج و نگہداشت کی مساوی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے تعاون کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پربھی اقدامات کو بار آور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ معاشرے میں اس بیماری سے وابستہ بدنامی اور متاثرہ افراد سے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے اجتماعی کاوش وقت کی اہم ضرورت ہے۔مجوعی طور پر انسان دوست رویہ، نظام صحت کی جدت اور بہتری کے لیے سرمایہ کاری سے ہی ہم ایچ۔ آئی۔ وی کے طرف اپنے ردِ عمل کو مضبوط، جامع اور موثر بنا سکتے ہیں