ویب ڈیسک: ایک بڑی پیش رفت میں بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی فضائیہ نے حالیہ جھڑپوں میں اپنے لڑاکا طیارے کھوئے ہیں۔
یہ بیان انہوں نے سنگاپور میں جاری شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران دیا، جو خطے میں دفاعی پالیسیوں پر ایک اہم عالمی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔
بھارتی اعتراف کی تفصیل:
جنرل انیل چوہان نے کہا:"طیارے گرنے کی تعداد اہم نہیں، اہم بات یہ ہے کہ وہ کیوں گرے، غلطی کہاں ہوئی اور کیا کوتاہیاں رہیں۔"یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت کے کسی اعلیٰ فوجی عہدیدار نے باضابطہ طور پر پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح طور پر تعداد بتانے سے گریز کیا۔
پاکستان کا مؤقف درست ثابت:
یاد رہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت پہلے ہی دعویٰ کر چکی ہے کہ:6 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔ان میں 3 فرانسیسی ساختہ رافیل بھی شامل تھے۔
گزشتہ دنوں بھارتی بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے بھی 5 طیاروں کے تباہ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر اثرات:
بھارتی جنرل کے اس اعتراف نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے اور پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت ملی ہے کہ:بھارت نے بلا اشتعال حملہ کیا۔پاکستان نے موثر اور بھرپور دفاع کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
جنرل چوہان کا ٹرمپ کے دعوے پر ردعمل:
جنرل چوہان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی غیر حقیقی قرار دیا کہ امریکہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جوہری جنگ کو روکا تھا۔ جنرل کے مطابق:"ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔"
چینی ہتھیاروں پر تبصرہ:
جنرل چوہان نے پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کو غیر مؤثر قرار دینے کی کوشش کی، تاہم زمینی حقائق اور لڑاکا کارکردگی ان کے دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
تجزیہ:
بھارتی جنرل کا یہ اعتراف نہ صرف پاکستان کی دفاعی کامیابی کی تائید کرتا ہے بلکہ بھارت کے اندرونی دفاعی کمزوریوں کو بھی آشکار کرتا ہے۔ ایسے میں یہ سوالات اٹھنا فطری ہیں کہ:بھارت اپنے جدید ترین ہتھیاروں کے باوجود پاکستانی دفاع کو کیوں نہ توڑ سکا؟بھارتی عسکری بیانیے میں اب کس حد تک حقیقت پسندی آئے گی؟