پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے چیمپئنز کپ کے 5 مینٹورز کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باوجود صرف شعیب ملک نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا ہے جبکہ دیگر چار مینٹورز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
گزشتہ برس اگست میں پی سی بی نے مصباح الحق، ثقلین مشتاق، سرفراز احمد، شعیب ملک اور وقار یونس کو چیمپئنز کپ کے مینٹورز کے طور پر مقرر کیا تھا، جنہیں ماہانہ 50 لاکھ روپے تنخواہ دی جاتی تھی، جو شروع سے ہی تنقید کی زد میں رہی۔ حال ہی میں بورڈ نے مطلوبہ کارکردگی نہ دکھانے پر چیمپئنز کپ ختم کرکے اس کی جگہ پینٹنگولر کپ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ذرائع کے مطابق مینٹورز 2 کروڑ روپے کی بڑی رقم کے لیے اپنی برطرفی کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ معاہدے کے تحت برطرفی کی صورت میں انہیں چار ماہ کی تنخواہ بطور کلیم ملے گی۔ شعیب ملک نے پہلے ہی مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن باقی چار نے اس وقت تک کوئی جواب نہیں دیا۔پی سی بی نے انہیں غیر رسمی طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اب ان کی خدمات کی ضرورت نہیں، لیکن حکام کو توقع تھی کہ مینٹورز خود ہی مستعفیٰ ہو جائیں گے، جو کہ نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق مینٹورز نے بورڈ کو بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی دیگر مالی سرگرمیاں، جیسے کوچنگ، ٹی وی پروگرامز اور کمنٹری چھوڑ کر ملک کی خدمت کے لیے یہ عہدہ قبول کیا تھا، اس لیے انہیں بھاری تنخواہ دی گئی۔
تاہم، حقیقت میں کئی مینٹورز نے اپنی دیگر مصروفیات جاری رکھی اور بورڈ کو گمراہ کیا۔ کچھ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں برطرف کیا گیا تو وہ میڈیا میں بورڈ کی تنقید کریں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظر، پی سی بی انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ ان میں سے کچھ سابق کھلاڑیوں کو دیگر ذمہ داریاں سونپی جائیں، اور ان کی تنخواہ آدھی کی جائے، اگرچہ ابھی تک اس بارے میں کوئی رسمی پیشکش نہیں کی گئی ہے۔یہ صورتحال پی سی بی کے لیے ایک مشکل چیلنج بن چکی ہے کیونکہ وہ اپنی ٹیم اور انتظامیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات لا رہے ہیں، مگر مینٹورز کی اس غیر یقینی صورتحال نے انتظامی عمل کو متاثر کیا ہے۔