کھیل بدلے تو معاشرے بھی بدل گئی

محمدفاروق سپرا
وقت کیساتھ ساتھ ہم سب بطورمعاشرہ جدیدیت کی چادر تلے دبے جا رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف کھیلوں کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے بلکہ ان کے کھیلنے والے افراد کی سوچ میں بھی ایک نیا رنگ بھر دیا گیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کی دستیابی نے کھیلوں کی شکل کو تبدیل کر دیا ہے۔ موبائل گیمز، ویڈیو گیمز، اور دیگر تکنیکی ایجادات نے نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں بچے اب زیادہ تر سکرینز کے سامنے وقت گزار رہے ہیں بجائے اس کے کہ وہ اپنے روایتی کھیلوں میں مشغول ہوں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں روایتی کھیل ویران ہو رہے ہیں اور ان کی سرپرستی کم ہوتی جا رہی ہے۔
پیسوں کی آمد نے بھی کھیلوں کی دنیا میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ پیشہ ورانہ کھیلوں میں سرمایہ کاری کی جانے لگی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ روایتی کھیلوں کی بجائے کمرشل کھیلوں کی طرف راغب ہوگئے ہیں۔ درحقیقت یہ تبدیلیاں روایتی کھیلوں کی بنیادی روح کو متاثر کر رہی ہیں۔
جہاں ترقی اور معاشی خوشحالی کے بے تہاشا دعوے کیے جا رہے ہیں، وہیں ہماری ثقافتی روایات، ہماری اجتماعی یادداشت اور ہماری تہذیبی پہچان کا ایک اہم حصہ ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہا ہے۔ بالخصوص دیہات میں کھیلے جانے والے روایتی کھیل، جو کبھی ہمارے معاشرے کی رگوں میں دوڑتے تازہ خون کی مانند تھے، آج ماضی اور داستانوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ وقت کی جدت اور پیسے کی ا?مد نے ان کھیلوں کے وجود پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔پہلے وقتوں میں دیہاتی معاشرے کا ڈھانچہ یکسر مختلف تھا۔ زندگی فصلیں کاٹنے اور موسمی تبدیلیوں کے گرد گھومتی تھی۔ کام کے اوقات کے بعد، خاص طور پر رات کے وقت یا تہواروں کے موقع پر، لوگ کھلیانوں یا چوپالوں میں جمع ہوتے اور مختلف کھیلوں کے ذریعے اپنی تھکان اتارتے اور سماجی تعلقات استوار کرتے تھے۔ یہ کھیل نہ صرف تفریح کا ذریعہ تھے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، صحت اور ثقافتی تسلسل کا بھی اہم ذریعہ تھے۔تاہم، وقت کی جدت، یعنی جدید ٹیکنالوجی کی آمد، شہروں کی طرف ہجرت، اور تعلیم کے نئے تقاضوں نے دیہاتی زندگی کے اس پر سکون اور مربوط ڈھانچے کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ سب سے بڑا اثر "پیسے کی آمد" کا ہوا ہے۔ معاشیات اب زندگی کا مرکز بن گئی ہے۔
اب نوجوانوں کی ترجیح فٹبال یا کرکٹ کے بین الاقوامی میچز دیکھنا یا ویڈیو گیمز کھیلنا ہے، نہ کہ اپنے بزرگوں سے کبڈی، کشتی، گْلی ڈنڈا، پتنگ بازی یا سانپ سیڑھی جیسے کھیل سیکھنا۔ یہ ڈیجیٹل تفریح انفرادی ہے، جبکہ روایتی کھیل اجتماعی تھے۔ اس انفرادیت نے معاشرتی رشتوں میں دراڑیں پیدا کی ہیں۔
نتیجتاً، وہ کھیل جو کبھی ہمارے بزرگوں کی جوانی کا احوال سناتے تھے، آج قصے کہانیوں کی زینت بن چکے ہیں۔ کبڈی کی للکار، گلی ڈنڈے کی تالیوں کی گونج، پتنگ بازی کے جوش و خروش اور شٹاپو جیسے پر لڑکیوں کی مسکراہٹیں اب بتدریج خاموش ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ کھیل صرف بزرگوں کی یادیں ہیں، جو نئی نسل کو ایک ایسی داستان سناتے ہیں جس پر وہ یقین تو کرتے ہیں مگر اسے محسوس نہیں کر پاتے۔
یہ کھیل محض کھیل نہیں تھے، بلکہ ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ تھے۔ ہر کھیل کے پیچھے ایک تاریخ، ایک مقصد اور ایک اخلاقی سبق ہوا کرتا تھا۔ مثلاً کشتی اور کبڈی طاقت، ہمت اور منصوبہ بندی سکھاتی تھی۔ گلی ڈنڈا ہاتھ اور آنکھ کے درمیان تال میل کو بہتر بناتا تھا۔ یہ کھیل مقامی تہواروں، رسم و رواج اور موسم سے گہرا تعلق رکھتے تھے، جو انہیں محض ایک جسمانی سرگرمی سے بڑھ کر ایک ثقافتی تقریب بنا دیتے تھے۔
روایتی کھیلوں کے ماضی کا حصہ بننے کے معاشرے پر گہرے اور دور رس منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں:

ثقافتی شناخت کا بحران:یہ کھیل ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ تھے۔ ان کے ختم ہونے سے ہم اپنی ثقافتی جڑوں سے کٹ رہے ہیں۔ نئی نسل کو اپنی تاریخ اور روایات پر فخر محسوس کرنے کا موقع نہیں مل رہا، جس سے ایک قسم کا ثقافتی خلا پیدا ہو رہا ہے۔
سماجی رشتوں میں کمزوری: یہ کھیل سماجی میل جول، باہمی تعاون اور برادری کے جذبے کو فروغ دیتے تھے۔ بزرگوں اور نوجوانوں کے درمیان ان کھیلوں کے ذریعے ایک پْل قائم ہوتا تھا۔ آج یہ پْل ٹوٹ رہا ہے، جس سے نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے اور سماجی ڈھانچہ کمزور ہو رہا ہے۔
جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل: یہ کھیل بھرپور جسمانی ورزش کا ذریعہ تھے، جو نوجوانوں کو تندرست و توانا رکھتے تھے۔ ان کے ختم ہونے سے جسمانی کاہلی، موٹاپا اور اس سے جڑی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی، اجتماعی کھیلوں سے جو ذہنی سکون اور تازہ دم ہونے کا احساس ملتا تھا، وہ بھی مفقود ہو رہا ہے۔اخلاقی اقدار کا زوال:بہت سے روایتی کھیل دیانتداری، انصاف، نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت گاہ ہوا کرتے تھے۔ کھیل کے دوران سیکھے گئے یہ اصول زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی کام آتے تھے۔ ان کے غائب ہونے سے معاشرے میں ان اخلاقی اقدار کے فروغ میں رکاوٹ آئی ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر ضروری ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں روایتی کھیلوں کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔ یومِ جمہوریہ یا یومِ آزادی کی تقریبات پر ان کھیلوں کے مقابلے منعقد کرائے جائیں۔ اساتذہ طلباء￿  کو ان کھیلوں کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت سے آگاہ کریں۔ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز روایتی کھیلوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کھیلوں کے مقابلوں کی براہِ راست نشریات، دستاویزی فلموں کی نمائش اور ان سے وابستہ بزرگ کھلاڑیوں کے انٹرویوز کے ذریعے عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، میں اس طرف رغبت پیدا کی جا سکتی ہے۔حکومت ثقافتی اداروں کے ذریعے دیہاتوں میں روایتی کھیلوں کے کوچنگ سینٹرز قائم کر سکتی ہے۔ مقامی سطح پر ٹورنامنٹس کا انعقاد کر کے شرکاء￿  کو انعامات سے نوازا جا سکتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس سلسلے میں آگاہی مہم چلا سکتی ہیں۔خاندان کے بزرگ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو ان کھیلوں سے متعارف کرا سکتے ہیں۔ خاندانی اجتماعات اور تہواروں کے موقع پر ان کھیلوں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف کھیلوں کو فروغ دے گا بلکہ خاندانی رشتوں کو بھی مضبوط کرے گا۔

پاکستان میں ثقافتی اور دیہاتی سیاحت کو فروغ دیتے ہوئے روایتی کھیلوں کو اس کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ سیاحوں کے سامنے ان کھیلوں کے مظاہرے نہ صرف سیاحت کو پر کشش بنائیں گے بلکہ مقامی لوگوں میں ان کھیلوں کے لیے دلچسپی بھی پیدا کریں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کھیلوں کے قواعد و ضوابط کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہلکا پھلکا بنا کر پیش کیا جائے تاکہ نئی نسل انہیں قبول کر سکے۔ مثال کے طور پر، ان کھیلوں کے لیے مختصر دورانیے کے مقابلوں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔

وقت کا بدلنا اور معاشی ترقی یقیناً ضروری ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی ثقافتی روایات اور ورثے کو بالکل ہی فراموش کر دیں۔ روایتی کھیل ہماری قومی پہچان کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہیں بچانے کی کوشش صرف ماضی کو زندہ رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک صحت مند، متحرک اور باہم مربوط معاشرے کے قیام کے لیے ہے۔ ا?ئیں، ہم سب عہد کریں کہ اپنے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے تو ا?شنا کریں گے، لیکن ساتھ ہی انہیں اپنے ثقافتی ورثے، ان روایتی کھیلوں سے بھی روشناس کرائیں گے جو ہمارے اجداد کی محنت، جوش اور برادری کے جذبے کی زندہ مثال ہیں۔ کیونکہ جو قوم اپنی روایات کو بھلا دیتی ہے، وہ اپنا تشخص کھو دیتی ہے۔ وقت بدل گیا ہے، مگر ہماری روایات کو بدلنے نہیں دیا جا سکتا۔