عازمین جج کے نام پر ٹرین کی 1620اضافی ٹکٹوں پر4لاکھ 64ہزار ریال خرچ ہوئے،آب زمزم کی تقسیم میں ایک لاکھ 20 ہزار ریال کی مالی بے ضابطگی
سرکاری افسران اور عملے نے کابینہ کی منظوری کے بغیر 52گاڑیاں استعمال کیں، حجاج اور سٹاف کی رہائش کے نام پر30لاکھ ریال کی اضافی ادائیگی کی گئی
ڈی جی حج جدہ کے دفتر کیلئے 3 لاکھ ریال کا فرنیچر اور دفتری سامان پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خریدا گیا ،وزارت مذہبی امورکی تحقیقاتی رپورٹ
اسلام آباد (آئی این پی)حج 2024میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔حج 2024 میں لاکھوں ریال کی بے ضابطگیاں وزارت مذہبی امور نے خود ہی بے نقاب کر دیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ حج کے دوران سب سے بڑا گھپلا حجاج ویلفیئر فنڈ میں کیا گیا ۔ جس سے 46لاکھ ریال غیرقانونی طریقے سے نکالے گئے ۔ ان میں سے 33لاکھ ریال ابھی تک واپس نہیں کیے گئے۔ عازمین جج کے نام پر ٹرین کی 1620اضافی ٹکٹیں خریدی گئیں۔جن پر4 لاکھ 64ہزار ریال خرچ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق حجاج کے لیے33 لاکھ 25 ہزار ریال کے تحائف خریدے گئے۔ جن کی خریداری کی ذمہ داری رہائشی عمارتوں کے مالکان پر تھی ۔ میڈیکل مشن کی بلڈنگ کے کرایوں اور ڈاکٹروں سمیت عملے کی تنخواہوں پر 3 لاکھ 87 ہزار ریال اضافی اڑائے گئے۔ بعض ایسی عمارتوں کے کرائے ادا کئے گئے جو استعمال ہی نہ ہوئیں ۔ جبکہ حجاج اور سٹاف کی رہائش کے نام پر30لاکھ ریال کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں۔ آب زمزم کی تقسیم میں ایک لاکھ 20 ہزار ریال کی مالی بے ضابطگیاں پکڑی گئی ہیں ۔حج کے دوران سرکاری افسران اور عملے نے کابینہ کی منظوری کے بغیر ہی 52 گاڑیاں استعمال کیں۔ کم بولی نظرانداز کر کے مہنگی گاڑیاں کرائے پر لی گئیں ان کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ۔ ڈی جی حج جدہ کے دفتر کیلئے 3 لاکھ ریال کا فرنیچر اور دفتری سامان پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خریدا گیا ۔ تحقیقاتی ٹیم نے ذمہ داروں کا تعین کر کے اضافی رقوم واپس لینے کی سفارش کی ہے۔