کارو کاری کی رسم

روبینہ شاہین 
انسان ایک معاشرتی حیوان ہے ہم سب رشتوں میں بندھے ہوے ہیں اور شائد اکیلے رہنا ہمارے بس میں نہیں ہم کہاں پیدا ہوتے ہیں اور کن رشتوں میں باندھ دیئے جاتے ہیں یہ سب قدرت کے کھیل ہیں دنیا میں جینے کے کچھ اصول اور طریقے معاشرے نے بناے اور بہت کچھ خدا تعالی نے قوانین بنا دیئے مگر اس دنیا کے اصولوں اور پابندیوں کے باوجود انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو نہیں پا سکتا اور اکثر ایسے گناہ یا جرم سرزد ہو جاتے ہیں جس میں انسان مجرم کہلاتے ہیں اور اس کی سزا بھی ہوتی ہے جو بھگتنی پڑتی ہے مگر کبھی سزا اتنی بھیانک ہوتی ہے کہ پوری دنیا لرز اٹھتی ہے کبھی تنہائی بھی پھانسی کا پ?ندا ہے اور کبھی رشتے بھی موت سے بھیانک نظر آتے ہیں مردوں کی اس دنیا میں جب جب کوئی بھی ایسا واقعہ ہو جو برادری یا قبیلے کی رسم و رواج کے خلاف جاتا ہو تو اس کا سب سے بڑا نشانہ اور الزام عورت کو بگھتنا پڑتا ہے بیشک و? بیگناہ ہو یا کسی گناہ میں برابر کی شریک ہو آج کی دنیا سوشل میڈیا کے دور کے ساتھ چل رہی ہے کوئی بھی خبر جو میڈیا کی نظر سے گزرے ساری دنیا میں راتوں رات پھیل جاتی ہے اور پھر ایک انار اور سو بیمار والا حال ہوتا ہے ہر بندے کی اپنے اپنے نظریئے کے مطابق راے مقرر ہوتی ہے ضلع بلوچستان میں کوئٹہ سے کچھ فاصلے پر ایک قبیلہ . .ڈگاری۔ ہے وہاں ایک بانو نامی خاتون اور احسان نامی مرد کو . . کارو کاری  . کی رسم میں سر عام عزت کے نام پر گولی مار دی گئی دونوں کا جرم محبت تھا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایسی سوچ اور ذہنیت رکھنے والے قبیلوں کا عجب حال ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ قبیلے کے ان جیا لوں کو سلام جنہوں نے ایسے بہیمانہ قتل کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جس نے دیکھا روح کانپ اٹھی جب دونوں کو . کارو کاری  . کی رسم میں سولی چڑھایا جاتا ہے تو خاتون نے بڑی بہادری سے تمام قبیلے والوں کو کہا کہ 
مجھے ہاتھ نہیں لگانا صرف گولی مارنا 
اور سب سے پہلے گولی چلانے والا ہاتھ اس خاتون کے بھائی کا تھا جس نے غیرت کے نام کی گولی سب سے پہلے چلا یی کیوں کہ قبیلے کے قانون کے مطابق  . کارو کاری  . رسم میں گلا دبا دیا جاتا ہے یا چھری سے ا عضاء￿  کاٹ دیئے جاتے ہیں مگر و? تو زنا کا جرم سرزد کرنے کی سزا ہے جسے اسلام میں سنگسار کرنا کہتے ہیں مگر ان کا جرم زنا نہیں صرف محبت ٹھری و? بھی پاکیزہ کیوں کہ دونوں شادی شدہ تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے مرد تو چار شادیاں کر سکتا ہے مگر عورت اپنے خاوند سے طلاق لے تو نکاح ہوتا ہے جو کہ و? عورت نہ کر سکی کیوں کہ قبیلہ اس کی اجازت نہیں دیتا تھا مگر بدنام محبت اور قبیلوں کی دشمنی آخر کار  . کارو کاری . . کا نام دے کر ٹھنڈی کی گئی بلوچستان کا شہر کوئٹہ اور ارد گرد ایسے قبیلے آباد ہیں جہاں عورت ایک قیدی کی زندگی گزرتی ہے عورت ایک میراث ایک جاگیر ایک غلام اور ایک کال کوٹھری میں پڑا ہوا و? پتھر سمجھی جاتی ہے جس کو جینے کے لئے ہر صبح مردوں کے حکم نامے پر دستخط کرنے پڑتے ہیں مرد چاہے ہزار گناہ کریں کتنے جرم کریں ان پر و? قانون واجب نہیں ہوتے مگر عورت بغیر تعلیم کے بغیر علاج کو سہو لتوں کے یہاں تک کے اپنی مرضی کے کھانے بھی نہیں کھا سکتی بغیر پردے کے نکلے تو بہت سے فتوے واجب ہو جاتے ہیں کہتے تو ہیں 
وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ 
بے شک عورت کو خالق کائنات نے اپنے بعد تخلیق کا عمل عورت کے ذریعے مکمل کیا مگر عورت رنگ اور خوب صورتی کم اور کھلونا زیادہ بن کے رہ گئی ہے پیدا ہونے والا بھی مرد کھیلنے والا بھی مرد فیصلے کرنے والا بھی مرد اور مارنے والا بھی مرد اور پھر ساری دنیا میں رسوا کرنے والا بھی مرد تو عورت کا وجود کہاں کھو جاتا ہے صرف کہانی کے اس کردار میں جہاں و? کسی سے محبت کا اقرار کرتی ہے و? گناہ بن جاتا ہے اور دنیا کو عبرت کا نشان دکھانے کے لیے  . کارو کاری  . کی رسم میں ماری جاتی ہے خدا را ذرا سوچیئے انسانی زندگی کو قربانی کی صلیب پر چڑھانے کے علاوہ اور بھی فیصلے کیے جا سکتے ہیں جو نشان عبرت نہیں بلکہ مثل لازوال بنیں و? دونوں تو گولی کا نشانہ بن گئے اور دنیا کو بتا گئے کہ سچی محبت کرتے تھے موت بھی الگ نہیں کر سکی ان دونوں کو مگر جو لواحقین ہیں و? اس عبرت کے نشان کو کتنی نسلوں تک ساتھ لے کر چلیں گے