بلوچستان میں پاک فوج دہشت گردوں پر ٹوٹ پڑی‘41ہلاک تیراہ میں آپریشن نہیں ہورہا:سکیورٹی ذرائع

فورسز نے  ہرنائی میں کارروائی کے دوران 30 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، پنجگور میں بھی 11 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ‘  صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کافورسز کو خراج تحسین 
 تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا، تیراہ میں کہیں بھی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی چیک پوسٹ قائم کی  گئی ہے‘ موجودہ  موسم  بھی بڑے آپریشن کے لئے کسی طرح مناسب نہیں
 دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ،فوج اور عوام کے رشتہ میں کوئی بیانیہ دراڑ نہیں ڈال سکتا،قبائلی عوام، معززین کی مشاورت سے ہی  تمام فیصلے کئے جاتے ہیں جو ان کے ہی فیصلے ہوتے ہیں: حکام کی میڈیا کو بریفنگ
راولپنڈی‘کراچی‘مانیٹرنگ ڈیسک(آئی این پی ) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں  دو مختلف کارروائیاں کے دوران فتنہ الخوارج کے  41 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر ) کے مطابق 29 جنوری 2026 کو سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں کارروائی کے دوران 30 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ پنجگور میں بھی سکیورٹی فورسز نے 11 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیاں فتنہ الہندوستان کے خلاف کی گئیں، پنجگور میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو موثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔  فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں سے بینک ڈکیتی سے لوٹی گئی رقم بھی برآمد کر لی گئی، برآمد رقم 15 دسمبر 2025 کو پنجگور میں ہونے والی بینک ڈکیتی کی تھی۔ دریں اثنا    بلوچستان میں  دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ نے سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیاہے‘دریں اثناء سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے  تیراہ  میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہورہا، صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہو رہے ہیں۔ کراچی میں سیکورٹی حکام نے میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی اور سوالات کے جواب دیئے‘سیکورٹی ذرائع  کے مطابق تین سال سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف  صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن  کئے جا رہے ہیں جو کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے موثر طریقہ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات پر کارروائیاں کی جارہی ہیں،آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
 تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا، تیراہ میں کہیں بھی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، اور نہ ہی کوئی اندر/ باہر جانے پر چیک پوسٹ لگائی گئی ہے۔ موجودہ  موسم  بھی بڑے آپریشن کے لئے کسی طرح مناسب نہیں۔سیکورٹی ذرائع  کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے،فوج اور عوام کے رشتہ میں کوئی بیانیہ دراڑ نہیں ڈال سکتا،قبائلی عوام، معززین کی مشاورت سے ہی  تمام فیصلے کیے جاتے ہیں جو انکے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق مشاورت میں ہمیشہ مقامی حالات و روایات کو مد نظر رکھا جاتا ہے،بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اصل میں عوام کی سہولتوں اور ترقی کے دْشمن ہیں،احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے