رجب بٹ پر تشدد کے بعد وکیل ریاض علی سولنگی نے جاری کیا نیا بیان

رجب بٹ پر تشدد کے بعد وکیل ریاض علی سولنگی نے جاری کیا نیا بیان

کراچی سٹی کورٹ میں  یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

 ابتدائی طور پر وکلا کی جانب سے مقدمہ درج نہ ہونے پر شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، تاہم بعد ازاں رجب بٹ پر تشدد کرنے والے وکلا کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔تفصیلات کے مطابق یوٹیوبر رجب بٹ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمے کے اندراج میں تاخیر پر وکلا سراپا احتجاج بن گئے۔ ریاض علی سولنگی ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں نے ایم اے جناح روڈ کو بلاک کر کے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا اور اعلان کیا کہ جب تک مقدمہ درج نہیں ہوگا، احتجاج جاری رہے گا۔ احتجاج کے دوران وکلا نے سٹی کورٹ میں مکمل ہڑتال کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت پولیس، ججز اور سائلین کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی۔بعد ازاں پیش رفت سامنے آئی اور رجب بٹ پر تشدد کرنے والے وکلا کے خلاف سٹی کورٹ تھانے میں ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ مقدمے میں میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ مدعی ہیں، اور ریاض سولنگی، فتح چانڈیو اور دیگر وکلا کو نامزد کیا گیا ہے۔

 ایف آئی آر میں تشدد، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔واضح رہے کہ مقدمے کے اندراج کے بعد سٹی کورٹ تھانے میں بھی ایک واقعہ پیش آیا، جس میں 30 سے 40 وکلاء نے ایس ایچ او پر تشدد کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی مگر وکلا کی بڑی تعداد کے باعث معاملات بگڑ گئے۔ وکلا کا موقف تھا کہ انہوں نے اپنی جانب سے بھی مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم ایس ایچ او نے مزید مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا، جس پر تلخی پیدا ہوئی۔اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور وکلاء حلقوں میں معاملے پر شدید بحث جاری ہے، اور اب کیس کی قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔