لاہور ہائیکورٹ میں یوٹیوبر رجب علی بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کے لائسنس کی معطلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے پنجاب بار کونسل سے میاں علی اشفاق کے لائسنس معطل کرنے کے مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت چھ جنوری تک ملتوی کر دی۔جسٹس ملک محمد اویس خالد نے سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے شاہ زیب مسعود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے کراچی بار کو فریق بنانے کے لیے دائر متفرق درخواست بھی منظور کر لی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈسپلنری کمیٹی کے پاس لائسنس معطل کرنے کا اختیار نہیں تھا اور معاملہ ٹربیونل کو بھجوانا چاہیے تھا۔ وکیل نے مزید کہا کہ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے درخواست گزار کو سنے بغیر ایک ہی دن میں کارروائی مکمل کرتے ہوئے لائسنس معطل کر دیا، جو قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت کسی شخص کو سنے بغیر کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے اور عدالت نے استفسار کیا کہ کون سا قانون چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کو لائسنس معطل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
دوسری جانب پنجاب بار کونسل کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ میاں علی اشفاق کا لائسنس قانونی تقاضوں کے مطابق معطل کیا گیا ہے اور ایگزیکٹو کمیٹی کو لائسنس معطلی کا اختیار حاصل ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ درخواست گزار کے پاس پنجاب بار کونسل کے فیصلے کے خلاف پاکستان بار کونسل میں 30 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا قانونی حق موجود ہے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس میں ابتدائی ریلیف دیتے ہوئے لائسنس معطلی کا حکم معطل کیا جائے اور فوری طور پر لائسنس بحال کیا جائے، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ پنجاب بار کونسل کا مؤقف سنے بغیر کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے ہدایت کی کہ وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل یا ان کا نامزد نمائندہ لائسنس معطلی سے متعلق مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کرے، اور سماعت کو چھ جنوری تک ملتوی کر دیا۔