پمز سانحہ،ذمہ دارکون؟

عبداللطیف بیگ
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز کی نرسری میں لگنے والی آگ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے پورے ریاستی اور انتظامی ڈھانچے کی موت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جس نے ہر دردمند دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جن ماؤں نے نو ماہ تک اپنی کوکھ میں امیدوں کے چراغ روشن کیے، جن باپوں نے ہسپتال کے برآمدوں میں سجدے کر کے اپنے نومولود بچوں کی زندگی کی دعائیں مانگیں، انہیں کیا معلوم تھا کہ دارالحکومت کے سب سے بڑے شفا خانے کی نرسری ان کے لختِ جگروں کے لیے مقتل بن جائے گی۔ یہ معصوم بچے کسی بیماری سے نہیں ہارے، بلکہ انہیں ہمارے بدعنوان اور غافل نظام کی بے حسی نے زندہ جلا دیا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے والے حقائق اتنے ہولناک ہیں کہ پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج گواہی دے رہی ہے کہ ایئر کنڈیشنر میں چنگاری شام 6 بج کر 38 منٹ پر اٹھی۔ اس وقت وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو اس چنگاری کو بجھا پاتا، کیونکہ سپروائزری عملہ اپنی ڈیوٹی سے غائب تھا۔ المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا؛ جب آگ نے پوری نرسری کو لپیٹ میں لے لیا، تو ریسکیو اداروں اور سی ڈی اے کو اطلاع دینے میں پورے 16 منٹ ضائع کر دیے گئے۔ ایک ایسی جگہ جہاں سیکنڈز کی قیمت زندگی اور موت کی صورت میں چکانی پڑتی ہے، وہاں 16 منٹ کی مجرمانہ تاخیر یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ہسپتال کا عملہ کتنا نااہل اور غیر ذمہ دار تھا۔
یہ حادثہ اچانک نہیں ہوا، رپورٹ کے مطابق، نرسری کے سابقہ انچارجز نے بارہا تحریری طور پر انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ وارڈ کے ایئر کنڈیشنر اور کمپریسرز انتہائی خراب حالت میں ہیں اور کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ لیکن پمز کی عالی شان کرسیوں پر بیٹھے افسرانِ بالا کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اگر بروقت ان شکایات پر عمل کرتے ہوئے چند ہزار روپے مالیت کے تار بدل دیے جاتے یا اے سی کی سروس کرا لی جاتی، تو آج ان ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچ جاتیں۔ یہ ہسپتال انتظامیہ کی صریح غفلت اور بدعنوانی ہے جس نے معصوم بچوں کی جان لے لی۔
حکومت نے روایتی طور پر آٹھ افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم تو دے دیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف چند ملازمین کو معطل کر دینے سے ان ماؤں کو ان کے بچے واپس مل جائیں گے؟ پاکستان میں ہر بڑے سانحے کے بعد ایک انکوائری کمیٹی بنتی ہے، کچھ افسران معطل ہوتے ہیں، اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجرت پر لگی ہوئی یہ آگ بار بار ہمارے گھروں تک پہنچتی ہے۔ جب تک مجرموں کو سرِعام عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، تب تک سرکاری محکموں میں یہ لاپرواہی ختم نہیں ہوگی۔
ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں اور بیوروکریسی کے لیے وی آئی پی وارڈز میں تو کروڑوں روپے کے فنڈز راتوں رات جاری ہو جاتے ہیں، لیکن جہاں غریب عوام کے بچے زیرِ علاج ہوتے ہیں، وہاں بنیادی فائر سیفٹی کے آلات تک موجود نہیں ہوتے۔ پمز ہسپتال کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی ایس او پی موجود ہی نہیں تھے اور نہ ہی عملے کو کبھی ایسی آفت سے نمٹنے کی تربیت دی گئی۔ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جس ملک کا ایٹمی پروگرام دنیا بھر میں مانا جاتا ہے، اس کے دارالحکومت کا مرکزی ہسپتال ایک شارٹ سرکٹ کی آگ بجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
سیاسی رہنماؤں اور میڈیا کی جانب سے اس واقعے پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اب زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھایا جائے۔ وزیرِ اعظم اور وزیرِ صحت کو ذاتی طور پر اس کیس کی نگرانی کرنی چاہیے اور ان تمام افراد کو، خواہ ان کا تعلق بیوروکریسی سے ہو یا ہسپتال کی اعلیٰ انتظامیہ سے، قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنا چاہیے جنہوں نے ان معصوموں کی زندگیوں پر سمجھوتہ کیا۔
پمز کا یہ سانحہ پورے ملک کے نظامِ صحت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، اگر ہم نے اب بھی اپنے سرکاری ہسپتالوں کے کلچر کو تبدیل نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ان معصوم بچوں کا لہو ہم سب کے دامن پر قرض ہے اور اس قرض کو چکانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ غفلت کے مرتکب ان درندوں کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کسی ہسپتال میں کسی ماں کا بچہ اس طرح بے بسی کی موت نہ مرے۔ خدا بحیثیت قوم ہم پر رحم کرے اور ان سوگوار خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔