پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
پاکستانی وفد جو واپس روانہ ہونے والا تھا، اب استنبول میں مزید قیام کرے گا تاکہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جا سکے اور امن کے ایک اور موقع پر بات چیت کی جا سکے۔مذاکرات کا اہم موضوع پاکستان کا مرکزی مطالبہ ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے۔ پاکستان نے یہ بھی زور دیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے استعمال میں نہ آئے۔یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان پہلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا، جس میں سیز فائر پر اتفاق ہوا تھا۔ بعد ازاں، استنبول میں دوسرے اور تیسرے دور کے مذاکرات ہوئے، جن میں پچھلے نکات کا جائزہ لیا گیا۔
تاہم، گزشتہ روز چار روزہ مذاکرات کے بعد وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں کیونکہ طالبان نے سرحد پار دہشت گردی روکنے کی یقین دہانی نہیں کرائی۔ اس کے باوجود، پاکستان اپنے عزم پر قائم ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، اور یہ کہ صرف اس کا ایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملوں کو روکنا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان عوام کے امن اور خوشحالی کے لیے قربانیاں دیتا رہا ہے۔