کتوں اور انسان کا تعلق کتنا پرانا ہے؟ سائنسدان جاننے میں کامیاب

لاہور(نیٹ نیوز)یہ بات سب کو ہی معلوم ہے کہ کتے سے بہتر مخلص اور دوستی نبھانے والا جانور اور کوئی نہیں ہے جو انسان کے احساسات اور جذبات کو بخوبی سمجھ لیتا ہے۔مگر یہ باہمی تعلق کتنا پرانا ہے، سائنسدانوں نے پہلی بار اس بارے میں جان لیا ہے۔زمانہ قدیم کے ڈی این اے کے تجزیے سے انکشاف ہوا کہ انسانوں اور کتوں کے درمیان تعلق کم از کم 15 ہزار سال پرانا ہے۔جرمنی کی Ludwig Maximilian یونیورسٹی کی 2 مختلف تحقیقی رپورٹس میں اس حوالے سے بتایا گیا۔تحقیق کے مطابق انہیں ایسے جینیاتی شواہد ملے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمانہ قدیم میں شکاری جانوروں کو کھانا دیتے تھے اور انہیں اپنے ساتھ دفن کرتے تھے۔تحقیق میں بتایا کہ 15800 سال پرانے ایک کتے کو ترکیہ میں انسان کے ساتھ دفن کیا گیا جبکہ ایک اور جبڑا بھی ملا جو 14300 سال پرانا تھا جو برطانیہ میں دریافت کیا گیا۔محقین نے بتایا کہ نتایج سے واضح ہوتا ہے کہ 15 ہزار قبل اس عہد کے کتے موجودہ عہد کے کتوں سے مختلف تھے، جن کو انسان پالتے تھے اور یہ وہ عہد تھا جب کسی اور جانور کو پالتو نہیں بنایا گیا تھا۔اس سے قبل شواہد سے عندیہ ملا تھا کہ کتوں کو آخری برفانی عہد کے اختتام کے قریب 12 ہزار سال قبل پالتو بنایا گیا تھا مگر اس حوالے سے قدیم ترین جینیاتی شواہد 10900 سال پرانے تھے۔محقین کے مطابق مگر اب واضح ہوچکا ہے کہ انسانوں اور کتوں کا تعلق اس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس عہد میں کتے کسی چھوٹے بھیڑیے جیسے نظر آتے تھے اور ان کے جبڑے کم طاقتور تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کتے یورپ اور مغربی ایشیا میں 14 ہزار سال پہلے عام ہوچکے تھے اور یہ کتے مچھلی کھاتے تھے جو انسانوں کی غذا تھی۔اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔