سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
حالیہ عالمی منظرنامہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتاہے کہ مشرقِ وسطی اب صرف علاقائی سیاست کامیدان نہیں رہابلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کامرکزبن چکاہے۔اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرعالمی سیاست کامرکزبن کرابھراہے۔یہ مطالعہ مشرقِ وسطی میں حالیہ کشیدگی،جغرافیائی وسیاسی تبدیلیوں کاتجزیہ پیش کرتاہے،جس کا نقط آغازامریکااوراسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ عسکری کارروائی ہے جونہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک سنگین خطرہ بن گئی تھی۔اس جنگی صورتحال نے عالمی امن کوتباہی کے دہانے پرلاکھڑاکیا،ایک ایسے بحران کوجنم دیاجس نے عالمی امن کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کوبراہِ راست خطرے میں ڈال دیا۔یہ تصادم محض فوجی نہیں تھابلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پرمحیط سیاسی کشیدگی،نظریاتی اختلافات اور اسٹریٹیجک مفادات کارفرماتھے۔
اس بحران نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پرطاقت کے توازن کومتاثرکیابلکہ تحقیق یہ ظاہرکرتی ہے کہ کس طرح ایران نے عسکری دباکوسفارتی کامیابی میں تبدیل کیا،تاہم،اسی بحران کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی جس میں پاکستان نے نہایت متوازن اورفعال کرداراداکرتے ہوئے ایک ممکنہ عالمی تباہی کوٹالنے میں کلیدی حصہ ڈالا۔ پاکستان کے اس کلیدی مصالحتی کردار نے بروقت دنیاکوایک بڑی تباہی سے بچانے میں مددفراہم کی اورپاکستان نے ایک ثالثی قوت کے طورپرعالمی تصادم کوکم کرنے میں اہم کردار اداکیا۔
ایران اورامریکا کے تعلقات1979کے اسلامی انقلاب کے بعدسے مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔اس انقلاب کے نتیجے میں نہ صرف ایران کی داخلی سیاست میں بڑی تبدیلی آئی بلکہ اس کے عالمی تعلقات بھی یکسربدل گئے۔امریکا،جوپہلے ایران کاقریبی اتحادی تھا،بلکہ شاہ ایران کے زمانے میں ایران کو امریکا خطے کا تھانیدارمشہورکیا گیاتھا،اچانک اس کاسب سے بڑامخالف بن گیا۔دراصل ایران اورمغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کی بنیادانقلابِ ایران کے بعدرکھی گئی،جب ایک خودمختاراورمغرب مخالف نظام نے جنم لیا۔اس کے بعد ایران کی دفاعی خودکفالت،جوہری پروگرام،اورخطے میں اس کے اتحادیوں کی حمایت نے اسے ایک اہم مگرمتنازعہ طاقت بنادیا۔
اسرائیل،جوخودکوخطے میں ایک تنہالیکن مضبوط ریاست سمجھتاہے،ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کواپنے لیے ایک اسٹریٹیجک خطرہ تصورکرتارہاہے۔خاص طورپرایران کے جوہری پروگرام اوراس کی حمایت یافتہ مزاحمتی تنظیموں(خصوصا لبنان میں)کے باعث۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان کشیدگی اکثربالواسطہ جنگوں اورپراکسی تنازعات کی شکل میں ظاہرہوتی رہی۔ یہ کشیدگی وقت کے ساتھ بڑھتی گئی اورمختلف پابندیوں،پراکسی جنگوں اورسفارتی تناکی شکل میں سامنے آتی رہی۔تاہم حالیہ برسوں میں یہ تنابراہِ راست فوجی تصادم میں تبدیل ہوگیا۔مشرقِ وسطیٰ تاریخی طورپرعالمی طاقتوں کے تصادم کامرکزرہاہے،جہاں توانائی کے وسائل،جغرافیائی اہمیت اورنظریاتی اختلافات نے مسلسل کشیدگی کوجنم دیا۔حالیہ بحران کوسمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک ری سیٹ کے طورپردیکھاجائے،جس نے علاقائی سیاست کے بنیادی ڈھانچے کوبدل دیا ہے۔
اگر ہم تاریخی و نظریاتی پس منظرپرنگاہ ڈالیں توپتہ چلتاہے کہ1979کے انقلاب کے بعدایران نے مغربی اثرسے علیحدگی اختیارکی۔ امریکانے1980/2020کے درمیان ایران پرمتعدد اقتصادی پابندیاں عائدکیں اوراسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کواپنی سلامتی کیلئے بنیادی خطرہ قراردیا۔عالمی بینک اورآئی ایم ایف کے اعدادوشمارکے مطابق ایران پرعائدپابندیوں کے باعث اس کی معیشت کو اندازاایک ٹریلن ڈالرسے زائدکانقصان پہنچ چکاہے۔امریکانے ایران کے سینکڑوں بلین ڈالرزکے اثاثے بھی منجمدکر رکھے ہیں۔سینٹرفار اسٹریٹجک اینڈانٹرنیشنل اسٹڈیزکی رپورٹ کے مطابق2015کے جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعدبھی کشیدگی میں65فیصداضافہ ہو چکاہے۔
ایران کے خلاف امریکااوراسرائیل کی مشترکہ کارروائی کوایک منظم اورمربوط حملہ قراردیاجاسکتاہے،جس کامقصد ایران کی فوجی، اقتصادی اوراسٹریٹیجک طاقت کوکمزورکرناتھا۔ان حملوں میں ایران کے حساس فوجی اڈوں کونشانہ بنایاگیا،اقتصادی ڈھانچے کونقصان پہنچایاگیا،خطے میں ایران کے اتحادیوں کودبامیں لانے کی کوشش کی گئی۔یہ جارحیت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی بلکہ اس نے خطے میں ایک بڑے پیمانے کی جنگ کے خطرات کو بھی جنم دیا۔ایران کے ساتھ حالیہ عسکری تصادم میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر وا رفیئر، اورفضائی حملوں کااستعمال کیاگیا۔ایران کے اسٹریٹیجک انفرا سٹرکچرکونشانہ بنایاگیا،خطے میں پراکسی نیٹ ورکس کوکمزورکرنے کیلئے باقاعدہ زمینی کاروائیوں میں بے تحاشہ جدیدترین جنگی ساز وسامان کواستعمال کیاگیا۔بحری راستوں کوکنٹرول کرنے کیلئے آبنائے ہرمزکامحاصرہ کیاگیااورعالمی معیشت کوشدید ترین نقصان اٹھانا پڑا۔گویا یہ جنگ روایتی نہیں بلکہ ہائبرڈوارفئیرکی مثال تھی،جہاں معلوماتی جنگ،اقتصادی دبااورفوجی طاقت ایک ساتھ استعمال ہوئے۔
ان کارروائیوں کامقصدایران کی دفاعی صلاحیت کومحدودکرنااوراسے علاقائی سطح پرتنہاکرناتھالیکن نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔ ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کومزیدمضبوط کیا، خطے میں اس کے اتحادیوں نے زیادہ منظم ردعمل دیا،جنگ کادائرہ تیزی سے لبنان اوردیگرعلاقوں تک پھیل گیا۔یہ صورتحال ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتی تھی،جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پربھی پڑتے لیکن پاکستان اورسعودی عرب کی مشترکہ دانش نے اس آگ کوپھیلنے سے روکے رکھا۔۔
لبنان اس بحران میں ایک مرکزی حیثیت اختیارکرگیا،لبنان میں موجودمزاحمتی قوتیں،جوایران کے اتحادی سمجھی جاتی ہیں،اس جنگ کا اہم حصہ بن گئیں۔لبنان کامحاذاورمزاحمتی بلاک اس بحران کا’’فارورڈ تھیٹر‘‘بن گیا۔مزاحمتی قوتوں نے اپنے دفاعی خطوط کوبرقراررکھا اوراسرائیل کو’’غیرمتناسب مزاحمت‘‘کاسامناکرناپڑا۔اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں اس بات کاثبوت تھیں کہ جنگ کادائرہ وسیع ہورہاہے۔اسرائیلی ظالمانہ جارحیت کامقصدمزاحمتی قوتوں کوکمزورکرکے لبنان کے علاقوں پرقبضہ کرکے اپنی سرحدوں میں توسیع کرناتھاتاہم زمینی حقائق نے ایک مختلف تصویرپیش کی۔
حیران کن طورپرمزاحمتی قوتیں کمزورہونے کی بجائے مزیدمنظم اورمستحکم ہوئیں۔ان کی اسٹریٹیجک پوزیشن پہلے سے بہترہوگئی۔ اسرائیل اپنی داخلی سلامتی کویقینی بنانے میں ناکام دکھائی دیا۔اسرائیل کوغیرمتوقع مزاحمت کاسامناکرناپڑا،داخلی سطح پراسرائیلی سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوااوریہ صورتحال اس بات کی غمازتھی کہ روایتی عسکری برتری اب فیصلہ کن عنصرنہیں رہی۔یقینا شہری علاقوں میں جنگ نے عالمی رائے عامہ کومتاثرکیا۔اسرائیلی جارحیت کی بناپر(اقوام متحدہ کے انسانی اندازے)کے مطابق لبنان میں فوجی جھڑپوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں میں40فیصداضافہ ہوگیااوراسرائیلی سرحدی علاقوں سے بے گھرہونے والوں کی تعدادلاکھوں میں ہے۔
اس پیچیدہ بحران کے دوران پاکستان نے’’خاموش سفارت کاری‘‘اور’’بیک ڈورچینل مذاکرات‘‘کے ذریعے ایک ذمہ دار،ایک غیرجانبدار مگرفعال ثالث کاکلیدی سفارتی کردار اداکیا۔پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کوساری دنیانے تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔پاکستان کی قیادت نے نہایت حکمت عملی کے ساتھ تہران،واشنگٹن اوردیگرعالمی دارالحکومتوں کے درمیان رابطہ کاری اورفریقین کے درمیان اعتمادبحال کرنے کی کوشش کی،تنازعے کوعالمی فورمزپراجاگرکرکے،اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کی حمایت کی راہ ہموار کرنے کیلئے مسلم دنیامیں اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش کی اورعلاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی کیلئے انتھک محنت کی۔
عالمی طاقتوں کوجنگ بندی پرآمادہ کیا۔اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپرامن کی اپیل کی۔پاکستان کی قیادت نے نہایت احتیاط اورتدبر کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جنہوں نے فریقین کومذاکرات کی میزپرآنے پرمجبورکیا۔پاکستان نے ایران اورامریکاکے درمیان بیک ڈور چینل مذاکرات شروع کروائے،خفیہ اورکھلے دونوں سطحوں پرمذاکرات کاآغاز ہوا ،اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی کیلئے انتھک محنت کی۔پاکستان نے’’مڈل پاورڈپلومیسی‘‘کی ایک کامیاب مثال پیش کی،جس میں محدود وسائل کے باوجودبہت زیادہ اثرڈالا۔جس کے نتیجے میں بالآخرایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا۔یہ معاہدہ مشرقِ وسطی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ معاہدہ محض جنگ بندی نہیں بلکہ ایک مکمل اسٹریٹیجک فریم ورک ہے۔
(جاری ہے)