سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
مفاہمت کی یہ یادداشت ایک پالیسی فریم ورک کے طورپرکئی اہم سطحوں پرتبدیلی لانے میں کامیاب رہی،اس کی اہم شقیں درج ذیل ہیں
٭جنگ کامستقل خاتمہ:تمام فریقین نے اس بات پراتفاق کیاکہ آئندہ کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی سے گریزکیا جائے گا،جس سے خطے میں استحکام کی نئی امیدپیداہوئی۔ علاقائی کشیدگی میں فوری کمی،جس سے عالمی منڈیوں میں استحکام آیا۔ایران کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں ختم کردی جائیں گی۔ایران اوراس کے اتحادیوں کے خلاف مزیدکوئی جارحیت نہیں ہوگی۔
٭لبنان کی خودمختاری کی ضمانت:اسرائیل کولبنان کے تمام متنازعہ علاقوں سے دستبردارہونے کاپابندبنایاگیا،جس سے خطے میں طاقت کاتوازن تبدیل ہوتادکھائی دے رہاہے اور یہ ایک حتمی اورلازمی فیصلہ ہوگا۔یہ شق خطے میں طاقت کے توازن کوبنیادی طورپر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
٭امریکی افواج کا انخلا:معاہدے کے فورابعد امریکی افواج خطے سے واپس چلی جائیں گی،اندازے کے مطابق20سے30ہزارامریکی فوجیوں کامرحلہ وارانخلاطے پایاہے۔ جس سے خطے میں براہ راست امریکی اثرورسوخ میں کمی واقع ہوگی اورجنگ بندی کے معاہدے کومزید تقویت ملے گی جوایک بڑی اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے۔امریکی فوجی موجودگی کے خاتمیکافیصلہ ایک بڑی جغرافیائی اوربڑی اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے،جومستقبل میں علاقائی خودمختاری کوتقویت دے سکتاہے۔
٭پابندیوں کا خاتمہ:ایران پرعائدتمام اقتصادی پابندیاں ختم کردی جائیں گی،عائد تمام پابندیوں کے خاتمے سے اس کی معیشت کوبڑی تقویت ملے گی اورنئی زندگی ملنے کی توقع ہے۔جس سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے مطابق ایران کی جی ڈی پی میں ممکنہ8سے10فیصداضافہ ہوگا۔تیل کی برآمدات میں 3ملین بیرل یومیہ اضافہ ہوگاجس سے ایرانی معیشت کے جلدبحال ہونے کاقوی امکان ہے۔
٭آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول:ابنائے ہرمز،جوعالمی تجارت کیلئے نہایت اہم ہے اوردنیا کا20%تیل اسی راستے سے گزرتاہے،اب ایران کے مکمل کنٹرول میں ہوگی۔
ایران کواس اہم بحری گزرگاہ پرمکمل اختیاردیناعالمی توانائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتاہے جویقیناایران کی بڑی فتح ہے۔
٭میزائل اور جوہری پروگرام:ایران کے دفاعی پروگرامزکومذاکرات سے باہررکھاگیاہے،جواس کی خودمختاری کی بڑی جیت ہے۔ایران کے میزائل اورجوہری پروگرام کو مذاکرات سے باہررکھنااورکسی قسم کی پابندیوں کانہ ہونا،اس کی خودمختاری اوردفاعی پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اورسفارتی منظرنامہ امن پسند قوتوں کیلئے سکھ کاسانس اورایک ایساسہارابن گیاہے کہ آئندہ آنے والوں وقت میں یہ سوچ اورشعورخطے میں نئی تبدیلی کی نویدبن سکتی ہے۔اس معاہدے کودنیابھرمیں سراہاگیا۔دنیاکے بیشترممالک نے اس معاہدے کوایک مثبت پیش رفت قراردیا۔یورپی عوام میں اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلندہوئیں،جبکہ امریکاکے اندربھی تنقیدی رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔مغربی دنیامیں اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں اضافہ ہوگیا۔یورپی یونین نے اسے’’سفارتی پیش رفت‘‘قراردیتے ہوئے اسے امن کی جیت قراردیا۔عالمی منڈیوں میں استحکام لوٹ رہاہے اورعالمی معیشت کے سرپرمنڈلاتے خطرات اورخدشات کم ہو رہے ہیں۔
عالمی میڈیانے پاکستان کے کردارکوسراہاتاہم کچھ ممالک کارویہ مختلف رہا،بھارت نے محتاط خاموشی اختیارکی لیکن اندرون خانہ انڈین میڈیابیانیہ مودی کے اضطراب کوآشکارکرگیا، متحدہ عرب امارات نے واضح حمایت سے گریزکیا۔یہ رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں مفادات کی کشمکش اب بھی جاری ہے اورکچھ ممالک اب بھی خطے میں کشیدگی کواپنے مفادات کیلئے استعمال کرناچاہتے ہیں۔۔
اگرچہ معاہدہ کامیابی کے ساتھ طے پاچکاہے،لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں،جواس معاہدے کے استحکام کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔تاہم اس بارصورتحال مختلف ہے۔عالمی میڈیازیادہ تنقیدی کرداراداکررہاہے جس سے عالمی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف ہورہی ہے،یورپ اورامریکامیں عوامی دباؤبڑھ رہاہے اوراسرائیل کی سفارتی پوزیشن کمزورہوچکی ہے۔عوامی رائے پہلے سے زیادہ باخبراورفعال ہے اوراسرائیل کوسفارتی سطح پرشدیدتنقیدکاسامناہے۔گویایہ عدم استحکام کامعاہدہ کے بعدکامرحلہ ہے، جہاں زمینی حقائق اورسفارتی معاہدے میں تضادہ سکتاہے۔
یہ معاہدہ محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے۔اس پوری صورتحال نے مشرقِ وسطی میں طاقت کے توازن کونئے سرے سے متعین کیاہے۔ایران ایک مضبوط اورخودمختارابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طورپرسامنے آیاہے۔محدود مداخلت کی امریکی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی ہے اورامریکاکواپنی حکمت عملی میں لچک دکھاناپڑی۔اس وقت ٹرمپ کونہ صرف امریکامیں بلکہ اقوام عالم میں بری طرح تنقیدکانشانہ بنایاجارہاہے۔اسرائیل دفاعی اورسفارتی دبامیں ہے اوربالخصوص اس حالیہ امریکی و اسرائیلی مشترکہ جارحیت میں یورپی یونین کاکردارکھل کرسامنے آیاہے جس کے جواب میں ٹرمپ کی یورپی یونین اورنیٹوپرتنقیدسے ان کی بھرپورمایوسی کااظہارہوتارہاہے۔
یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے دورکی بنیادرکھ سکتاہے،بشرطیکہ تمام فریق مکمل طورپر معاہدے پرعمل درآمدکرتے رہیں۔ایک موثربین الاقوامی نگرانی کانظام قائم کیاگیاہے۔ علاقائی مذاکرات مستقل بنیادوںپرجاری ہیں۔امریکاکواپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرنی پڑی ہے بلکہ لبنان کے معاملہ پرپہلی مرتبہ ٹرمپ کی نیتن یاہوکو وارننگ کوایک جوہری سیاسی تبدیلی قراردیاجارہاہے۔اسرائیل پہلی باردفاعی پوزیشن میں نظرآرہاہے۔طاقت کاڈھانچہ بدلنااورپاکستان کاایک موثرثالث کے طورپرابھرنااس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدیدعالمی نظام میںہارڈپاورکے ساتھ ساتھ سمارٹ ڈپلومیسی بھی فیصلہ کن کرداراداکرتی ہے۔
یہ پیش رفت اس حقیقت کواجاگرکرتی ہے کہ جدیدعالمی نظام میں فوجی طاقت کااستعمال اکیلاحل نہیں بلکہ سفارتکاری،اتحادسازی، حکمت عملی اورعوامی دبا وہ اہم عوامل ہیں جوعوامی رائے بنانے میں بھی اہم کرداادا کرتی ہے۔پاکستان نے جس بصیرت اور سنجیدگی کے ساتھ اس بحران میں کرداراداکیا،وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ ایک مثالی سفارتی کامیابی کے طورپرسامنے آیاہے،اور عالمی امن کیلئے ایک مثال بھی ہے۔جس نے نہ صرف خطے بلکہ دنیاکوایک ممکنہ تباہی سے بچانے میں مدددی۔
یہ صرف ایک معاہدہ نہیں،بلکہ طاقت کے عالمی توازن میں ایک خاموش انقلاب ہے اوراس انقلاب میں سفارتکاری نے گولی پربرتری حاصل کرلی ہے۔یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دورکاآغازہوسکتاہے،یہ معاہدہ اگربرقراررہتاہے تویہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی واقتصادی دورکاآغازثابت ہوسکتاہے،تاہم اس کیلئے تمام فریقین کوسنجیدگی اور ذمہ داری کامظاہرہ کرناہوگا۔تاہم،اگراسرائیل کی جانب سے جارحیت جاری رہی تویہ امن ایک بارپھرخطرے میں پڑسکتاہے۔دنیاآج ایک نازک موڑپرکھڑی ہے،اوراس کا مستقبل اس بات پرمنحصرہے کہ عالمی طاقتیں جنگ کی بجائے امن کوترجیح دیتی ہیں یانہیں۔