کوالالمپور(آئی این پی )ملائیشیا کے محکمہ برائے مذہبی امور کے وزیر ڈاکٹر ذوالکفلی حسن نے دعوی کیا ہے کہ کام کا دبائو ، سماجی اثرات اور مذہبی عمل کی کمی ایسے عوامل ہیں جو لوگوں کو ہم جنس پرستی کی طرف لے جاتے ہیں، انکے اس بیان نے ملک میں شدید تنازع کھڑا کر دیا ۔غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ذوالکفلی حسن نے یہ بیان ایک تحریری پارلیمانی جواب میں دئیے، جو انہوں نے اپوزیشن کی اسلامی جماعت پاس سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ سیتی زائلہ محمد یوسف کے سوال کے جواب میں پیش کیا۔ملائیشین وزیر نے اپنے جواب میں کہا کہ سماجی اثرات، کام کا دبا اور دیگر ذاتی عوامل ان وجوہات میں شامل ہیں جنہیں وہ ہم جنس پرستی کی بنیاد قرار دیتے ہیں