حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاری کرلی ہے، جس کے تحت فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایک روپے 59 پیسے کا اضافہ متوقع ہے۔
اس اضافے سے بجلی صارفین پر تقریباً ایک ارب 68 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ درخواست میں ملازمین کے قرض، نئی بھرتیوں، قانونی چارجز، ایڈمنسٹریٹو کاسٹ اور دفتری آپریشن کاسٹ شامل ہیں۔یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب 2024 میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہانہ اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹس، لائن لاسز اور کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا بوجھ ڈالا گیا۔ ایک سال کے دوران ڈسکوز صارفین کیلئے بجلی 39 روپے 25 پیسے فی یونٹ اور کے الیکٹرک صارفین کیلئے 26 روپے 11 پیسے فی یونٹ مہنگی ہوئی۔حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی اور ٹیکسوں کے جائزے کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوششیں کی ہیں، لیکن صارفین پر اضافی بوجھ کا سلسلہ جاری ہے۔