رانا عامر
پنجاب اسمبلی کے حالیہ واقعے کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے وہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم بیانیہ سازی کی کوشش دکھائی دیتا ہے اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے باقاعدہ ایک فہرست منظور کی گئی جس میں واضح طور پر درج تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ کون کون افراد پنجاب اسمبلی کی گیلری میں موجود ہوں گے اس فہرست کی منظوری باقاعدہ طریقہ کار کے تحت لی گئی اور تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر اور چیف وہپ نے خود یقین دہانی کرائی کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو پارلیمانی اجلاس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘حقائق یہ ہیں کہ سلمان اکرم راجا کا نام ابتدا میں فہرست میں شامل نہیں تھا تاہم نشاندہی کے بعد ان کا نام باقاعدہ درج کر لیا گیا اسی طرح نعیم حیدر پنجھوتہ کے نام کی بھی بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے اجازت دی۔ یعنی جو نام لسٹ میں شامل کیے گئے انہیں ادارہ جاتی اجازت کے ساتھ ہی رسائی دی گئی اس پورے عمل میں کسی قسم کی بدنیتی یا امتیازی رویہ سامنے نہیں آتا اب اصل تنازع اس نکتے پر کھڑا کیا جا رہا ہے کہ پشتون مہمانوں کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا گیا اور دھکے دیے گئے لیکن اگر واقعات کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے تو حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے مینا خان آفریدی کے ساتھ کچھ ایسے افراد موجود تھے جو نہ فہرست میں شامل تھینہ ان کی تصاویر یا شناخت سیکیورٹی ریکارڈ میں موجود تھی ایک ایسے شخص کو، جو پہلے گیلری سے نیچے لے جایا گیا دوبارہ اوپر لانے کی کوشش کی گئی جو سیکیورٹی پروٹوکول کی صریح خلاف ورزی ہے یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ واقعے کی شروعات اسمبلی گارڈز کی جانب سے نہیں ہوئیں فوٹیجز موجود ہیں جو اس امر کی تصدیق کرتی ہیں اس کے باوجود وہاں موجود بعض عناصر نے معاملے کو انتظامی حدود میں رکھنے کے بجائے تعصب اور اشتعال انگیزی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی یہی وہ مقام ہے جہاں ایک معمولی سیکیورٹی معاملے کو نسلی اور لسانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور ‘‘پشتون کارڈ’’ کھیلنے کی راہ ہموار کی گئی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق تھا یا ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کیا پنجاب اسمبلی جیسے حساس ادارے میں قواعد کی خلاف ورزی کو جان بوجھ کر تنازع میں بدلا گیا اور کیا اس کا مقصد پاکستان میں ایک اور انتشار کو جنم دینا تھا ان سوالات کا جواب واقعات کی ترتیب خود دے دیتی ہے
ایسے نازک موقع پر پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا ردِعمل قابلِ تحسین ہے انہوں نے جذباتی بیانات یا فوری الزامات کی سیاست کے بجائے صبر بردباری اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا نہ تو کسی قومیت کو نشانہ بنایا گیا نہ ہی معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا گیا یہی ریاستی دانش مندی ہوتی ہے جو بحران کو ٹھنڈا کرتی ہے بھڑکاتی نہیں
پاکستان اس وقت پہلے ہی متعدد چیلنجز سے دوچار ہے ایسے میں اسمبلیوں کے اندر بدنظمی پیدا کرنا سیکیورٹی پروٹوکول توڑنا اور پھر اسے نسلی
تعصب کا نام دے دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے بلکہ قومی وحدت کے لیے بھی نقصان دہ ہے اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر اداروں پر دباؤ ڈالنا اور قواعد کو روندنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں
یہ بات بھی جان بوجھ کر کنفیوڑن پیدا کرنے کے لیے پھیلائی گئی کہ مبینہ کارروائی پنجاب پولیس نے کی حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کی سیکیورٹی ایک الگ اور خودمختار ادارہ جاتی انتظام کے تحت ہوتی ہے جو نہ پنجاب پولیس کے ماتحت ہے اور نہ ہی کسی دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے سے اس کا براہِ راست تعلق ہوتا ہے ہر صوبائی اسمبلی کی اپنی سیکیورٹی فورس ہوتی ہے جس کی ذمہ داری صرف اور صرف اسمبلی کے قواعد پروٹوکول اور سیکیورٹی ضوابط پر عمل درآمد کرانا ہوتی ہے پنجاب اسمبلی کی گیلری اور ایوان میں داخلے کے حوالے سے جو کارروائی عمل میں لائی گئی وہ اسمبلی سیکیورٹی اسٹاف کی جانب سے کی گئی نہ کہ پنجاب پولیس یا کسی حکومتی فورس نے اس حقیقت کو نظر انداز کر کے پنجاب پولیس کو تنقید کا نشانہ بنانا محض ایک سیاسی بیانیہ گھڑنے کی کوشش ہے تاکہ معاملے کو انتظامی حدود سے نکال کر ریاستی جبر کا رنگ دیا جا سکے فوٹیجز اور ریکارڈ اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے قواعد کے مطابق عمل کیا
یہ وضاحت اس لیے بھی ضروری ہے کہ حقائق کو مسخ کر کے ریاستی اداروں کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش دراصل پاکستان کے ادارہ جاتی استحکام کے خلاف ایک خطرناک روش ہے، جس کا بروقت تدارک ناگزیر تھا
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر پنجاب حکومت اس معاملے میں ذرا سی بھی جلد بازی یا سخت ردِعمل کا مظاہرہ کرتی تو صورتحال بگڑ سکتی تھی مگر دانشمندانہ رویے نے ایک بڑے انتشار کو جنم لینے سے روک دیا یہی طرزِ حکمرانی پاکستان کو درکار ہے قانون، برداشت اور قومی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ