محمدنسیم رنزوریار
قارئین کرام۔۔پاکستان میں پشتون قوم کے حقوق کا مسئلہ ایک پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے، جس کی جڑیں تاریخی، سیاسی، معاشی اور سماجی عوامل میں پیوست ہیں۔ چند اہم پہلو درج ذیل ہیں۔جیسے سیاسی شراکت داری جوپشتون علاقوں میں سیاسی عدم استحکام اور بعض اوقات مرکزی حکومت کے ساتھ کشیدگی رہی ہے۔ بعض حلقے شکایت کرتے ہیں کہ پشتون علاقوں کی سیاسی نمائندگی اور فیصلوں میں شمولیت ناکافی ہے۔دوسری بات سیکیورٹی اور امن و امان کی ہے جو خاص طور پر سابقہ. فاٹااورخیبرپختونخوا کے کچھ حصے کئی دہائیوں سے دہشت گردی، فوجی آپریشنز اور بدامنی کا شکار رہے ہیں، جس سے عام شہریوں کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔تیسری اہم پہلوترقیاتی کاموں کی ہے جیسے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی کئی پشتون اکثریتی علاقے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں پیچھے رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی کمی اور غربت جیسے مسائل نمایاں ہیں۔جس سے پشتون قوم کے بڑی تعداد کی آبادی متاثر ہے اسی طرح شناخت اور ثقافت تک بات جو ہے وہ بعض پشتون حلقے اپنی زبان، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کے حوالے سے خدشات رکھتے ہیں، اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پشتو زبان اور ثقافت کو زیادہ سرکاری و تعلیمی سطح پر جگہ دی جائے۔جسکی آج تک کوئی امکان پیدا ہی نہیں ہوا ہے اسی طرح انصاف اور قانون کی حکمرانی کے متعلق ماورائے عدالت کارروائیوں، جبری گمشدگیوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں، جن پر مختلف تنظیمیں اور تحریکیں آواز اٹھاتی رہی ہیں۔جو ہمیشہ جھڑپوں کی باعث بنتا جارہا ہے اور قمیتی جانیں ضائع ہوتے جارہے ہیں۔یہ مسئلہ صرف حکومتی اقدامات کا نہیں بلکہ ایک جامع پالیسی، مکالمے، اعتماد کی بحالی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے ہی دیرپا حل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔پشتون علاقوں کو زیادہ خودمختاری دینا اور مقامی نمائندوں کو فیصلوں میں حقیقی اختیار دینا ضروری ہے۔ شفاف انتخابات، مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام اور سیاسی اعتماد کی بحالی بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے انتہا پسندی اور بدامنی کے رجحانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پیشہ ورانہ اور جواب دہ بنایا جائے۔ ماورائے عدالت کارروائیاں، جبری گمشدگیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم ہونی چاہئیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔پشتو زبان کو تعلیمی اداروں میں فروغ دینا، ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنا اور قومی سطح پر شناخت دینا بھی احساسِ محرومی کو کم کرسکتا ہے۔مختلف گروپوں کے درمیان مفاہمت کا عمل جاری رکھنا اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی راہ اپنانی ہوگی۔ پشتون رہنماؤں، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کے درمیان کھلا مکالمہ ضروری ہے۔ایک مضبوط عدالتی
نظام جو بلاامتیاز انصاف فراہم کرے، بداعتمادی کو کم کرسکتا ہے۔ متاثرین کو فوری اور منصفانہ انصاف دینا بھی امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔یہ تمام اقدامات طویل المدتی ہیں اور ان کے لیے ریاستی عزم، مسلسل نگرانی اور عوامی شمولیت ضروری ہے۔امن و تحفظ کیلئے سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی پولیس فورس کو جدید تربیت، وسائل اور اختیارات دینا چاہیے تاکہ وہ مقامی سطح پر عوام کے ساتھ بہتر رابطہ رکھ سکے اور اعتماد قائم ہو۔شدت پسندی کے اسباب ختم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں امن، رواداری اور مکالمے کو فروغ دینا، اور نفرت انگیز مواد پر سخت پابندی لگانا ضروری ہے۔فوجی آپریشنز اور سیکیورٹی اقدامات میں شفافیت ہونی چاہیے اور ان پر پارلیمانی نگرانی ہونی چاہیے تاکہ ماورائے عدالت کارروائیوں اور زیادتیوں کا سدباب کیا جا سکے۔جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کا دکھ کم ہو۔کمیونٹی کی سطح پر امن کمیٹیاں، نوجوانوں کے لیے کھیل اور مثبت سرگرمیوں کے پروگرامز شروع کیے جائیں تاکہ سماج میں مثبت سوچ پروان چڑھے۔قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگیں اور جنگی باقیات عام لوگوں کے لیے خطرہ ہیں، ان کی صفائی اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے منصوبے بننے چاہیں۔افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں بہتر انتظام اور قانونی تجارت کو فروغ دے کر غیر قانونی سرگرمیوں کو کم کیا جا سکتا ہے، جس سے سیکیورٹی بھی بہتر ہوگی۔ان تمام اقدامات میں سب سے اہم چیز اعتماد سازی ہے، جو تب ہی ممکن ہے جب ریاست اور عوام کے درمیان کھلا رابطہ، دیانت داری اور انصاف قائم ہو۔