پاکستانی یو ٹیوب چینلزنے پہلگام واقعہ پر بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پول کھولا،بھارتی حکومت کا پراپیگنڈ ا بے نقاب کیا
نئی دہلی(کے پی آئی،مانیٹرنگ ڈیسک )مقبوضہ جموں و کشمیر میں پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی حکومت نے قومی سلامتی کوخطرے کا بہانہ بناکر وزارت داخلہ کی سفارش پر16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی ۔یہ پابندی انڈیا کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سفارش پر یوٹیوب کی جانب سے عائد کی گئی اور یوٹیوب نے مذکورہ چینلز کے مالکان کو اس پابندی سے متعلق ایک ای میل کے ذریعے مطلع کیا،یوٹیوب نے مذکورہ چینلز کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق دیا ہے۔واضح رہے 22اپریل کو پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جو طوفان بد تمیزی مچارکھاہے ، مذکورہ یوٹیوب چینلز پر بھارت کے اس سفید جھوٹ کا پول کھولا جارہا ہے اوردلائل کے ساتھ بھارتی پراپیگنڈے کو بے نقاب کیا جارہا ہے۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے وزارت داخلہ کی سفارش پرپہلگام واقعہ کے بعد اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ حساسیت کا حامل مواد نشر کرنے کے الزام میں 6 کروڑ 30 لاکھ سبسکرائبرز کے حامل 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی ہے۔صحافی عاصمہ شیرازی کاکہناہے کہ میں بھارت مخالف نہیں ہوں ،مجھ پر دو برس پہلے تک انڈین نواز اور را کی ایجنٹ جیسے الزامات لگتے رہے ہیں۔پہلگام واقعہ پر چند سوالات اٹھائے کہ کیسے یہ مودی حکومت کی سکیورٹی کی خامی تھی اور یہ کہ کہیں یہ سب بہار الیکشن کی وجہ سے تو نہیں کیا جا رہا ہے۔میں اسے فالس فلیگ آپریشن نہیں کہتی مگر یہ ضرور پوچھ رہی ہوں کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا؟۔میں اپنے دھیمے مزاج کے عین مطابق اپنے یوٹیوب چینل پر یہ سوالات اٹھا رہی تھی مگر شاید انڈیا کی سرکار ہوش اور عقل والی آوازوں کو دبانا چاہتی ہے اور وہ عوام تک حقائق پہنچانا ہی نہیں چاہتی۔ہم نے بلوچستان میں ہونے والے جعفر ایکسپریس کے واقعہ پر بھی سوالات اٹھائے تھے اور اپنی حکومت سے وجوہات پوچھی تھیں۔ شاید مودی سرکار صرف ایک ہی طرف کا بیانیہ سننا چاہتی ہے اور وہ غیرجانبدارانہ اطلاعات تک رسائی کو ناممکن بنا رہی ہے۔ شہزاد غیاث نے کہا کہ شاید انڈین حکومت یہ سیاسی رائے بنانا چاہتی ہے کہ پاکستان میں سب جہادی ہیں اور وہ بس سب کو مارنا چاہتے ہیں۔ جب ہم توازن سے بات کرتے ہیں تو اس سے انڈیا میں یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستانی صحافی تو بہت سلجھے ہوئے ہیں اور وہ جنگ کے حامی نہیں ہیں۔ عمر چیمہ نیانڈیا کے چینلز پر زید حامد جیسے لوگوں کو تو جگہ مل جاتی ہے مگر جو لوگ حقائق پر بات کرتے ہیں ان کی گنجائش نہیں ہے۔