کاشف بٹ
ہمارے معاشرے میں جرائم کی نئی شکلیں جنم لے رہی ہیں۔ پہلے ڈاکو بندوق کے زور پر جیبیں کاٹتے تھے، اب تعلیم یافتہ اور قانون کے رکھوالے ہی عزتوں اور بٹووں کے لٹیرے بن بیٹھے ہیں۔ شہر میں کئی ایسے گروہ سرگرم ہیں جن میں پولیس اہلکار، وکیل اور بعض خواتین شامل ہیں۔ ان کا دھندا نہ کوئی نیا ہے اور نہ ہی پیچیدہ، مگر اس کے نتائج عام انسان کے لیے تباہ کن ہیں۔
یہ گروہ "ہنی ٹریپ" کے نام پر معصوم یا غیر محتاط لوگوں کو جال میں پھنسا کر زیادتی یا ہراسانی کے مقدمات میں ملوث کرتے ہیں۔ پلان یہ ہوتا ہے کہ کسی فرد کو پہلے دوستی یا تعلقات کے جال میں لایا جائے، پھر اچانک اس پر الزام لگا دیا جائے۔ پولیس اہلکار کیس درج کرتے ہیں، وکیل ضمانت اور مقدمے کی فائل تیار کرتے ہیں اور وہ خواتین جو مرکزی کردار ہوتی ہیں، عدالت میں بیان دے کر سارا کھیل مکمل کرتی ہیں۔ یوں ایک ہی ڈرامے کے تین اہم کردار – پولیس، وکیل اور خاتون – مل کر انصاف کو تماشا بناتے ہیں۔
اس کھیل کا اصل مقصد پیسہ ہے۔ جس نے "ریٹ" ادا کر دیا، اس کے حق میں بیان بدل گیا، کیس ڈھیر ہو گیا اور وہ اگلے دن باعزت بری۔ لیکن جو شخص مطالبہ پورا نہ کر سکا، اس کا مقدر جیل کی سلاخیں اور معاشرتی رسوائی ہے۔ عزت دار گھرانوں کے بیٹے اس جال میں پھنستے ہیں اور برسوں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در بدر پھرتے رہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب قانون کے محافظ ہی قانون شکن بن جائیں تو عام آدمی کہاں جائے؟ پولیس اہلکار اپنی وردی کا رعب بیچ رہے ہیں، وکیل اپنے علم کا سودا کر رہے ہیں اور خواتین اپنی اداؤں کو ہتھیار بنا کر لوگوں کی زندگیاں برباد کر رہی ہیں۔ ایسے منظم گروہوں کے آگے عام شہری لاچار ہے۔یہ صورتحال صرف ایک شخص یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔ جب عدالتوں کے کٹہرے پیسے کے وزن سے جھکنے لگیں اور گواہان کی زبانیں نوٹوں کی چمک سے پلٹنے لگیں تو پھر قانون صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے۔ریاست کو چاہیے کہ ایسے ہنی ٹریپ گروہوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے۔ یہ صرف مالی بلیک میلنگ نہیں بلکہ معاشرتی اعتماد کا قتل ہے۔ اگر آج ان پر لگام نہ ڈالی گئی تو کل ہر گھر کا بیٹا یا بھائی ان کے جال میں آ سکتا ہے۔
انصاف کو کاروبار بنانے والے یہ گروہ دراصل معاشرے کے مجرم ہی نہیں بلکہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کے خلاف مؤثر کارروائی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے شہری اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکیں گے۔