راشن کارڈ، مزدوروں کو کسی قسم کی سبسڈی نہ مل سکی

جلد سبسڈی کی فراہمی شروع نہ کی تو احتجاج پر مجبور ہونگے:مزدورتنظیمیں 
لاہور (خصوصی رپورٹ ) محکمہ لیبر کی جانب سے شروع کی جانے والی راشن کارڈ سکیم صرف کارڈز کی تقسیم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ اعلان کے باوجود مزدور طبقے کو تاحال کسی قسم کی سبسڈی نہیں مل سکی۔تفصیلات کے مطابق محکمہ لیبر نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ صوبے کے رجسٹرڈ ورکرز کو کھانے پینے کی بنیادی اشیاپر ماہانہ تین ہزار روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی، تاہم دو ماہ گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہ ہو سکا۔ محکمہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ سبسڈی ورکرز کو راشن کارڈ کے ذریعے فراہم کی جائے گی، لیکن ابھی تک بیشتر مستحق ورکرز کارڈ سے بھی محروم ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صوبے میں تقریباً 12 لاکھ ورکرز رجسٹرڈ ہیں، لیکن تاحال صرف ایک لاکھ کے قریب ورکرز کو راشن کارڈ تقسیم کیے جا سکے ہیں۔ باقی ماندہ لاکھوں مزدور سبسڈی اور راشن کارڈ کے منتظر ہیں۔ورکرز نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ لیبر نے صرف اعلان کر کے اپنی تشہیر کی، مگر مزدور طبقے کو کوئی عملی ریلیف فراہم نہیں کیا۔ مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جلد سبسڈی کی فراہمی شروع نہ کی تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔دوسری جانب محکمہ لیبر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیم پر عمل درآمد میں تکنیکی اور انتظامی مسائل درپیش ہیں جنہیں جلد حل کر لیا جائے گا اور تمام رجسٹرڈ ورکرز کو سبسڈی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی