صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر شکوک، ٹیلی میٹرنگ ہی حل ہے: مصدق ملک

صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر شکوک، ٹیلی میٹرنگ ہی حل ہے: مصدق ملک

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر بداعتمادی موجود ہے، حتیٰ کہ صوبوں کے درمیان بھی ایک دوسرے پر شک کیا جاتا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ ڈیمز اور کینالز کے معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ “بلوچستان کو شک ہے کہ سندھ انہیں پانی نہیں دیتا، سندھ کو خدشہ ہے کہ پنجاب ان کا پانی روک لیتا ہے”۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا مستقل حل ٹیلی میٹرنگ سسٹم ہے جس کا کام شروع ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ ایک سے ڈیڑھ سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سیلابی صورتحال سنگین ہو رہی ہے اور سرگودھا متاثر ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجند پر جب تمام دریا اکٹھے ہوں گے تو پانی کا ریلا 10 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ دریاؤں کے کناروں پر غریب عوام کے بجائے طاقتور افراد کے ریزورٹس قائم ہیں: “10 لوگوں کے ریزورٹس کو بچانے کے لیے پوری بستیاں اجاڑ دی جاتی ہیں”۔

مصدق ملک نے کہا کہ پیشگی اطلاعات ملنے پر لوگوں اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات لوگ خود انکار کر دیتے ہیں۔ ایک گاؤں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ “30 لوگ نکلنے کو تیار نہیں تھے، منت کر کے نکالا اور آج وہاں پانی موجود ہے”۔