سری لنکا کرکٹ کے نظام میں بڑی انتظامی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں بورڈ کے صدر شمی سلوا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان کے ساتھ ہی سری لنکا کرکٹ کی ایگزیکٹو کمیٹی نے بھی اجتماعی طور پر استعفیٰ پیش کر دیا ہے، جس سے ملک کے کرکٹ ڈھانچے میں ایک عبوری دور شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔سری لنکا کرکٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمی سلوا اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے اپنے فیصلے سے ملک کے وزیرِ کھیل سنیل کمارا گاماگے کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو انتظامی تبدیلیوں کے ایک بڑے سلسلے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر حالیہ عرصے میں مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ بھی موجود تھا۔سری لنکن میڈیا رپورٹس کے مطابق استعفوں کے بعد کرکٹ بورڈ کا انتظام عارضی طور پر ایک عبوری سیٹ اپ کے تحت چلایا جائے گا تاکہ روزمرہ امور متاثر نہ ہوں اور بین الاقوامی کرکٹ سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔ اس عبوری انتظامیہ کی تشکیل کے لیے مشاورت جاری ہے۔
مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مستقبل کی قیادت کے لیے مختلف نام زیرِ غور ہیں، جن میں بینکر ایرن وکرامارتنے کو ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ان کی تقرری عمل میں آتی ہے تو توقع ہے کہ وہ مالی اور انتظامی اصلاحات پر توجہ دیں گے، کیونکہ سری لنکا کرکٹ کو گزشتہ چند سالوں سے مالی اور گورننس کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی سری لنکن کرکٹ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیم کی کارکردگی اور انتظامی شفافیت دونوں کو بہتر بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔