ججوں کا تبادلہ آزاد عدلیہ کے تصور کیخلاف ہے:بیرسٹر گوہر

تمام ہائیکورٹس میں ججوں کی تعداد مکمل ہے، تبادلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے:علی ظفر
اسلام آباد(آن لائن )اعلیٰ عدلیہ کے ججزکے تعیناتی اور تبادلے کی منظور دینے والے جوڈیشل کمیشن کے اپوزیشن ممبران نے کہاہے ججوں  کے تبادلہ سے قبل رولز بننے چاہیے تھے،26 آئنی ترمیم کے بعد رولز بنانے کا پہلے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا،ججز کو تبادلہ کرنے کسی فرد کا کام نہیں ہے ان خیالات کااظہار بیرسٹرگوہرعلی خان اور بیرسٹرعلی طفرنے کیاہے ،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاہے کہ ججز کا یہ تبادلہ اکثریت سے ہوا،ججز کے تبادلہ آزاد عدلیہ کے تصور کیخلاف ہے،تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل ہے،ججز کو تبادلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔انھوں نے منگل کوجوڈیشل کمیشن اجلاس کے بعدسپریم کورٹ میں میڈیاسے گفتگومیں مزیدکہاکہ ججز کے تبادلہ سے قبل رولز بننے چاہیے تھے،26 آئنی ترمیم کے بعد رولز بنانے کا پہلے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا،ججز کو تبادلہ کرنے کسی فرد کا کام نہیں ہے،عدلیہ کے ججز نے جب حلف لیا تھا تو آئین میں لکھا تھا ججز کو مرضی کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جائے گا،ججز کا موقف سنے بغیر پسند نا پسند پر تبادلہ عدلیہ پر حملہ ہے،