رفیع احمد
پاکستان اپنے وجود کے دن سے لے کر آج تک کسی نہ کسی مسائل کا شکار رہا ہے، دیکھا جائے تو ہمارا مزدور یا محنت کش طبقہ سب سے زیادہ مشکلات اور مسائل کا شکار رہا ہے ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں محنت کش، مزدوروں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ دنیا کے خوش حال ممالک امریکہ، چین، جاپان، کوریا، ، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ترقی و کامرانی حاصل کرنے والے ممالک مزدوروں کی محنت کے مرہون منت ہیں۔ پاکستان جب آزاد ہوا تو اس کی صنعتی و زرعی پیداوار قابل ذکر نہیں تھی۔ آ ج جو بھی شاندار شاہراہیں، ڈیم، عمارتیں،انڈر پاسز، کھیت و باغات اور پل وغیرہ ہمارے محنت کشوں کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ سخت سے سخت موسم و حالات میں ہمارا مزدور پانی کی لائنیں، سوئی گیس کے پایپ اور بجلی کے تار بچھاتے ہوئے نظر آ تا ہے۔ ہمارا ہنر مند اپنے کام اور ذہانت کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں اپنا اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ ہمارے مزدور کے ذہن میں یہ حدیث مبارکہ موجود رہتی ہے کہ " محنت کرنے والا اللّہ کا دوست ہے،"
ہمارے دشمن نے ہمیں کمزور سے کمزور کرنے کی ہر ہر سازش کی ہے، دشمن نے ہماری بنیاد یعنی مزدوروں میں منشیات کا زہر منظم طریقے سے پھیلا دیا ہے۔ مزدوروں میں منشیات کا تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مزدور کے پاس محنت کی کمائی ہوتی ہے دوسری طرف وہ سخت جسمانی و ذہنی محنت کی وجہ سے اور منشیات کی بآسانی دستیابی کی وجہ سے وہ منشیات کا عادی ہو جاتا ہے، مزدور کی مزدوری کب ختم ہو جائے وہ اس خوف کی وجہ سے بھی نشہ کی جانب راغب ہو جاتا ہے، بے روزگاری، غربت، کم معاوضہ، بچوں کا عدم تحفظ اور مہنگائی کی وجہ سے وہ بتدریج نشہ کا استعمال شروع کر دیتا ہے، ہمارے مزدور کو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کروایا جاتا ہے بلکہ سخت ذہنی و جسمانی مشقت کروائی جاتی ہے ، جسم کو آرام دینے کے لئے سکون آور ادویات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں وہ مزید گٹکا، ماوا، سگریٹ ،چرس، شراب، افیون، ہیروئن اور کرسٹل آئس جیسے نشوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ منشیات فروش اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے مزدور کے پاس محنت کی کمائی موجود ہے تو اس کے مسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے پہل وہ اسے مفت میں منشیات کی سپلائی دیتا ہے اور بعد ازاں اس کی تمام محنت کی کمائی کے عوض اسے "زندہ لاش" بنا دیتا ہے۔ اس طرح ہمارا قیمتی مزدور بالآخر سڑکوں پر بھیگ مانگتے اور چوریاں کرتے نظر آتا ہے تاکہ وہ اپنا نشہ پورا کر سکے، یہ عادی افراد اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی جان لینے سے بھی دریخ نہیں کرتے ہیں، حال ہی میں سرگودھا پولیس نے اصغر نامی کاری گر کو گرفتار کیا ہے کہ اس نے منشیات کے لین دین پر 5،افراد کو مختلف وقتوں میں قتل کر دیا تھا، سروے کے مطابق منشیات کے عادی افراد میں 90، فی صد مزدوروں کی تعداد ہے،یعنی ایک کروڑ مزدور نشہ کرکے اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی برباد کر رہے ہیں۔ ظلم بلائے ظلم تو یہ ہے کہ ایڈز جیسا مہلک مرض سب سے زیادہ مزدوروں میں ہے کیونکہ جب وہ اپنی نبض کی رگوں میں منشیات کا زہر استعمال شدہ سرنج سے اتار رہے ہوتے ہیں تو وہ لا علم ہوتے ہیں کہ استعمال شدہ سرنج ایڈز زدہ مریض کی ہے۔
حکومت کو چاہئیے کہ وہ منشیات کی روک تھام میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے، منشیات فروشوں سے کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے، منشیات کے خلاف ہماری حکومتی پالیساں مفروضوں کے بجائے حقیقی شواہد کی روشنی میں تیار کرے،ہمیں سعودی عرب سے سیکھنا چاہیے کہ اس نے سال رواں میں 38، افراد کو منشیات کیس میں پھانسی دی ہے۔ منشیات فروشوں کو مزدوروں کے قریب نہ جانے کے لیئے مزدوروں میں منشیات کے خلاف شعور و آگہی اور تعلیمی پروگرامات کرے۔ مزدوروں کے حقیقی مسائل حل کرے، ان کے بچوں کو چھت اور اچھی تعلیم و خوراک کا بندوست کرے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ "مزدور خوش حال تو ملک خوش حال" لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ مزدوروں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان سے اس کے وقار، عزت اور زندگی میں کمی واقع ہورہی ہے جبکہ اس کے خاندان والے لاچار اور بے بس ہو جاتے ہیں۔ مزدور تنظیمیں خاتمہ منشیات کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا کرے، جلسے جلوس اور ریلیوں کا انعقاد کرے، اگر آج ہماری تنظیموں اور حکومت نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو خدا نخواستہ چند سال میں ہمارا ہر مزدور نشی ہو جائے گا۔۔۔۔۔