دھمکیوں اور پابندیوں کا دور ختم ہورہا ہے، ایران کو تنہا کرنے کی امریکی مہم پر تہران برہم

دھمکیوں اور پابندیوں کا دور ختم ہورہا ہے، ایران کو تنہا کرنے کی امریکی مہم پر تہران برہم

ایران نے امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد ممالک اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق ایران کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ خود کریں گے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خودمختار حکومتیں ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا فیصلہ اپنے مفادات کی بنیاد پر کرتی ہیں۔کاظم غریب آبادی نے امریکی وزیر خزانہ کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دیگر ممالک کو ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہدایات جاری کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کا دور ختم ہونے کے قریب ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کی ہدایت پر مختلف ممالک سے رابطوں کے لیے ٹیمیں دنیا بھر میں بھیجی گئی ہیں اور واشنگٹن ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بیسنٹ نے ترکیہ، عمان اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایرانی ایئرلائنز اور مالیاتی شعبے سے متعلق بعض اقدامات کو امریکی دباؤ کی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا۔ایران امریکی مہم کو اپنے خلاف معاشی دباؤ قرار دیتا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان یہ اختلافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ، آبنائے ہرمز اور ممکنہ سفارتی مذاکرات کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔