افغانیوں کی جبری بے دخلی

عبدالرزاق برق 
پاکستان میں مقیم افغانوں کو پہلی بارموجودہ حکومت نے جبری طورپرپاکستان سے واپس افغانستان بھیجنے کاعمل شروع کردیا ہے جس سے افغانوں کے اندرشدیدخوف وہراس اوربے چینی پائی جاتی ہیے اورکئی افغان باشندے جودہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں اچانک بے دخل کئے جانے کے خوف میں مبتلاہیں افغانوں کوپاکستان سے جبری نکالنے پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ آج پاکستان سے افغانستان ہزارباراچھا ہیے کیونکہ افغانستان میں امن اورسکون ہیے جان مال عزت سب محفوظ ہیے افغان کرنسی مظبوط ہیے جبکہ پاکستان میں نہ امن نہ جان مال اورعزت محفوظ ہیے لیکن خود اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کی تنظیموں نے افغانوں کوزبردستی نکالنے پرتشویش کااظہارکیا اورحکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہیے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کااحترم کریں ایمنسٹی انٹرنشنل  کے مطابق پاکستان میں کئی افغان ایسے ہیں جنہیں اپنے ملک افغانستان میں شدیدخطرات لاحق ہیں ان کی جبری واپسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اورافغانستان میں انسانی حقوق کی پگڑتی صورتحال کے باوجودافغان پناہ گزین کوواپس بھجنا ان کی زندگی کوخطرے سے دوچارکرناہیے افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرزپاکستان میں کاروبارکررہیے ہیں جبکہ ان کے بچے یہاں سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں آج افغانستان میں بچیوں کی تعلیم اورخواتین کی نوکریوں پرپابندی جیسے مسائل کومدنظررکھنا چاہیے ممکن ہے جن کوبے دخلی کیاجارہا ہے ان میں کئی افغان باشندوں کوبین الاقوامی طورپرتحفظ کی ضرورت ہو لہذا حکومت افغان گڈوال سے متعلق فیصلہ واپس لے کیونکہ حکومت کا افغانوں کوواپس زبردستی طریقے سے  بھجنے کافیصلہ غیرمنصفانہ اورغیراخلاقی ہیے اورافغانوں کوپروقاراوررضاکارانہ واپسی ہونی چاہئے جودیرپاثابت ہو بعض لوگ یہ بھی کہہ رہیے ہیں کہ یہ افغانی پاکستانی معشیت پرایک بڑابوجھ ہیے مگرمحنت کش لوگ کبھی کسی پربوجھ نہیں ہوسکتا بوجھ تووہ لوگ ہوتے ہیں جوبھیک مانگتے ہیں جس طرح سعودی عرب اوردوبئی میں لاکھوں پاکستانی بوجھ بن چکے ہیں  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس نے افغانوں کو افغانستان سے یہاں لانے کیلئے یہ کہاتھا کہ افغانستان آپ لوگوں کے لئے دارالحرب بناہواہیے آپ دارلامان کومہاجرہوجائے اوردلیل یہ دے رہیے تھے کہ مہاجرت رسول ? کی سنت ہیے آج افغانوں کوزبردستی نکالنے پروہ بنی رسول? کی سنت کے بات کرنے والے کہاں ہیے؟ اوروہ تمام مزہبی کیوں خاموش ہیں ؟حالانکہ 1980کے دہائی میں قوم پرست جماعتوں نے اس وقت افغانوں کوپہلے یہ کہا تھا کہ جنرل ضیاء￿  الحق اورمزہبی لوگوں کے فتوں میں نہیں آنا چاہئے تھا  اورافغانوں کو افغانستان میں اپنے گھروں کونہیں چھوڑنا چاہئے تھا کیونکہ اگراپنے گھروں کو چھوڑکریہاں آنے سے وہ یہاں مذید خوارہوں گے لیکن آج افغانوں کو زبردستی نکالنے سے وہ خواروزارہوگئے ہیں  کیونکہ افغان وہ مظلوم لوگ ہیں جوجنگ دوستی بھائی چارے اورمجبوری کی وجہ سے مجبوری کی آگ میں جل کریہاں آئے اپنی زندگیاں اورخواب لے کرانہوں نے اس ملک کواپنادوسراگھرسمجھا لیکن آج انہیں پرایا کہاجارہاہیے کیایہی بھائی چارہ تھا ؟ کیایہی اسلامی اخوت تھی؟ آج جوافغانوں کوزبردستی سے نکالا جارہاہیے توکل تاریخ  یہ ضرورلکھے گی اورتاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ کون حق پرتھا اورکس کے ساتھ ناانصافی ہوئی؟ حالانکہ مدینہ کی انصارنے مہاجرین کواپناکاروبارگھرسب کچھ دیا لیکن افسوس آج ریاست مدینہ میں افغانوں کے ساتھ کیاسلوک ہورہاہیے کیوں اپنا 40سالہ مہمان نوازی کوضائع کیئے جارہیے ہیں مذیدان کو پاکستانی مخالف کیوں  بنائے جارہیے ہیں کیاہمیں یہ معلوم نہیں کہ ملک کوکیسے چلانی ہیں اورپالیسی کیسی بنانی ہیے  آج جب ریاست ان افغانوں کو زبردستی سے نکال رہیے ہیں ریاست کے جن اہلکاروں نے ان افغانوں کو کروڑوں روپے سے پاکستانی شناختی کارڈ دیئے گئے اورساتھ ہی انہی  اہلکاروں نے افغانوں کو 74شناختی کارڈکے ثبوت پیسے کے زریعے دیئے گئے اسی پاکستانی ریاستی اہلکاروں کی طرف سے افغانوں کوپاکستانی شناختی کارڈ دینے سے وہ قومی اسمبلی کے ممبربن گئے اوردو  افغان مہاجربقول حکومت پاکستان کے۔بلوچستان صوبائی حکومت میں صوبائی وزراء￿  بن گئے اوراسی دوافغان مہاجرمیں سے ایک افغان پانچ سال کے لئے  سنیٹربن گیا اوراس کا بیٹا فوج میں ایک اہم عہدہ دیاگیا کیا حکومت پاکستان ریاست کے جن اہلکاروں نے افغان مہاجرین کو قومی اسمبلی کے ممبر سینٹ آف پاکستان کیممبراورصوبائی اسمبلی کے ممبربنانے پران کوگرفتارکرکے ان کوسزادیں گے؟ کیاجن پاکستانی اہلکاروں نے افغان      افغان مہاجرین کو کروڑوں روپے کے زریعے ہزاروں پاکستانی شناختی کارڈ جاری کئے تھے حکومت ان سرکاری اہلکاروں کوگرفتارکرکے قانون کے مطابق سزادیں گے ؟کیا جن سرکاری اہلکاروں نے افغانوں سے شناختی بنانے کیلئے جوکروڑوں روپے لیئے ہیں وہ کروڑوں روپے ان سرکاری اہلکاروں سے واپس لیکرافغان مہاجرین دیں گے؟ پہلے جب ان مہاجروں کولاکرآبادکیا گیا اوراس ملک نے دنیا بھرسے اسی مہاجروں کے نام پرکھربوں روپے کابھیک مانگ کرریاستی اہلکاروں نے باہرممالک میں پراپرٹی بنایاگیا آج جب باہرملکوں سے بھیک ملنا بندہوگیا توافغانوں کوزبردستی نکال رہیے ہیں کیا جن ریاستی اہلکاروں نے افغان مہاجروں کے نام پہ جوکروڑوں روپے اپنے ساتھ رکھے ہیں کیا وہ یہی کروڑوں افغان مہاجرین کوواپس کریں گے کیونکہ ان افغان مہاجرین کے نام سے مغربی ممالک سے لیئے تھے   سب سے بڑی بات ہیے کہ جن پاکستانی اہلکاروں نے پاکستانی میں موجود افغانی طالبان کوحکومت کی جانب سے جاری کئے گئے پاکستانی پاسپورٹ پرقطردوحامذاکرات میں شرکت کئے تھے کیا ریاست  ان اہلکاروں کوگرفتارکرکے ان کوسزادیں گے؟  کیوں انہوں نے کس کے کہنے پرافغان طالبان کوپاکستانی پاسپورٹ جاری کئے تھے اور کس قانون کے تحت؟ افغان شہریوں کوچمن اورطورخم سرحدکے قریب بنائے گئے کیمپ میں کچھ عرصہ رکھاجائے گا جہاں نادراکی جانب سے ان کے بائیومیٹرک مکمل کئیے جائیں گے کیمپ میں افغان خاندانوں کوقیام وطعام سہولت بھی موجود ہے اہم سوال یہ ہے کہ افغانوں کو کس قانون کے تحت جبری نکالے جارہیے ہیں ؟ پاکستان کاقانون ہیے کہ شہریت مجریہ 951پاکستان سٹیزن ایکٹ سیکشن 4میں یہ لکھا ہے کہ پاکستان میں پیداہونے والاہربچہ پاکستانی ہیے مہاجرین کے بچوں کے حوالے سے قانون یہی کہتا ہے اگروہ پاکستان میں پیداہوئے ہو اوروہ یہاں رہنا چاہتے ہیے تووہ یہاں کے شہری ہوں گے pocکاقانون 2001میں آیا اس قانون کاسیکشن 10یہ کہتا ہے کہ اگرپاکستانی مردکسی غیرملکی عورت سے شادی کریں یاشادی کرناچاہیے اوروہ افغان مہاجرخاتون ہوتووہ عورت اپنے شوہرکے بل بوتے پرپاکستانی شہریت لے سکتی ہے اوروہ پاکستانی شناختی کارڈ اورپاکستانی پاسپورٹ بھی مل سکتا ہے پاکستان کے مختلف ہائی کورٹس اورشرعیت کورٹ نے یہاں تک کہاہیے کہ یہی حق جوہیے یہ پاکستانی عورت کے غیرملکی شوہرکوبھی حاصل ہوگا یہ پشاورہائی کورٹ بڑا سری فیصلہ ہیے اس سے قبل 
2005کافیڈرل شریعیت کورٹ کافیصلہ تھا جس میں فیڈرل شرعیت کورٹ نے کہا ہیے کہ ان معاملات میں اسلامی قانون مرداورعورت کافرق نہیں کرتا اگرآپ نے ایک پاکستانی مردکووہ اپنی بیوی کو شہریت دلواسکتاہیے توپھرپاکستانی عورت کویہ حق بھی دے لیکن ہمارے عدالتوں کے جوفیصلے ہیں ان کاعمل درآمدافغان کمیونٹی کے لئے نہیں ہورہا ویسے اگرانسانی حقوق کے تناظرسے دیکھاجائے تواس کویہ بات سمجھ آجاتی ہیے کہ اس پورے کائنات میں قیمتی چیزانسان ہیں اوریہ جو انسانی سرمائیہ ہیے یہ کسی ملک کابڑاسرمائیہ بھی ہیے یہ جولاکھوں لوگ  ہیں اوروہ پاوں ہاتھ رکھتے ہیں دل رکھتے ہیں عقل رکھتے ہیں اگروہ یہاں رہیے گے تویہ اس ملک کی مٹی سے سونا نکالے گے اوردنیا کاسب سے بڑاامیرملک امریکہ ہیے جہاں پیچھلے 400سال میں مہاجرین نے آبادکیا انہوں نے امریکہ کوبنایا وہ آتے گئے اوروہاں کے ہوتے گئے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے زیادہ تربزرگ بھی ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے تھے کراچی کے جولوگ ہیں وہ بڑی تعدادمیں ہجرت کرکے آئے تھے اسی طرح خیبرپختون خواہ میں اسلام آباد بلوچستان میں بڑی تعدادمیں پیچھلے 40سال میں افغانستان کے لوگ یہاں آئے ہیں وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں اوران کویہاں کامان لیاجائے تووہ اس ملک میں انویسٹ کریں گے اوراس ملک کے خدمت کریں گے افغانوں کو زبردستی سے نکالنے سے بہتر یہ نہیں کہ پہلے معلوم کیاجائے کہ افغانوں نے پاکستان کے دشمن ملک سے تعلقات بنائے ہیں ؟خود پاکستان کے اندرمہاجرقومی مئومنٹ نے بقول حکومت پاکستان کے پاکستان کے دشمن ملک سے تعلقات بنائے گئے تھے اوران کی کہنے پرپاکستان کے اندرجناح پورصوبہ بنائے گے جولوگ پاکستان کے دشمن ملک کے کہنے پرجناح پوربنانے کا پلان رکھتے ہیں ان لوگوں کوریاست کیوں نہیں نکالتے ؟ کیاجن لوگوں نے بقول حکومت پاکستان کے پاکستان کے دشمن ملک سے تعلقات بنائے ہیں ان کوکب زبردستی سے پاکستان سے نکالے گے ؟ افغان مہاجرین پاکستان کے کس دشمن ملک سے اچھی مراسم رکھتے ہیں ؟ نہیں افغانوں کا پاکستان کے اندرپاکستان کے کسی دشمن ملک کے ساتھ کوئی مراسم نہیں اس کے باوجود ان کو زبردستی سے نکالے جارہیے ہیں لیکن بلوچستان ہائی کورٹ نے porکارڈہولڈرز افغان مہاجرین کو30جون تک جبراً نکالنے سے روک دیا ہیے لیکن ہائی کورٹ کافیصلہ کون مانتا ہیے پولیس والوں کادھندہ چل رہاہیے خاص کرسندھ اورپنجاب میں شناختی کارڈرکھنے والے ہزاروں پشتونوں افغانوں کے نام سے  پکڑلیئے جاتے ہیں اگرپاکستان میں واقعی مزہبی پارٹیاں افغانوں کو پکے مسلمان مانتے ہیں توان کا زبردستی نکالنے کے خلاف جس راستے افغانوں کو لے جاتے ہیں اسی راستوں پربھرپوراورپوری طریقے مزاحمت کرنا چاہئے