تیر کشمیر کی وادیوں میں گم ہو گیا: وزیر اطلاعات

تیر کشمیر کی وادیوں میں گم ہو گیا: وزیر اطلاعات

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ "ٹھنڈا پانی پیئیں اور سر پر بھی ٹھنڈا پانی ڈالیں، صبح ہو گئی ہے۔"

اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ان کے بقول، انتخابی نتائج نے بعض جماعتوں کی توقعات کے برعکس صورتحال واضح کر دی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات سے قبل مبینہ دھاندلی کی کوششیں ناکام ہوئیں اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے پولنگ سے ایک رات قبل بیلٹ پیپرز کے تھیلے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے گھر سے پکڑے جانے کا الزام بھی عائد کیا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں کشمیری عوام نے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا ہے، جبکہ مخالف جماعتوں کو نتائج کو تسلیم کرنا چاہیے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جمہوری عمل میں کامیابی پر خوشی منانے کے ساتھ ساتھ شکست کو بھی برداشت کرنا چاہیے اور ہر انتخابی شکست کے بعد دھاندلی کے الزامات لگانے کی روایت سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گلگت بلتستان میں حکومت بننے کو شفاف انتخابات کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر آزاد کشمیر کے نتائج کو کیوں متنازع بنایا جا رہا ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ ایک ہی نوعیت کے انتخابات کے لیے مختلف معیار اپنانا مناسب نہیں، اور سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج پر یکساں مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ عظمیٰ بخاری کے یہ بیانات ان الزامات اور بیانات کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جو آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے دیے جا رہے ہیں۔