سیلاب سے پہلے تیاری: محفوظ پاکستان کی ضمانت

 محمد راشد تبسم
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، بے ترتیب مون سون بارشوں اور شدید موسمی واقعات نے ملک میں سیلاب کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ہر سال بارشوں کے موسم میں دریا کنارے آباد لاکھوں افراد کے لیے ایک نئی آزمائش جنم لیتی ہے۔ سیلاب اب پاکستان میں کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک مسلسل اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے جو انسانی جانوں، املاک، فصلوں، مویشیوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، لیکن ان کے اثرات کو کم کرنا اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا بروقت منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں آفات سے نمٹنے کے جدید نظام اسی اصول پر استوار ہیں کہ ہنگامی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے افراد، اداروں اور مقامی آبادی کو تربیت دی جائے تاکہ آفت کے وقت فوری اور مؤثر ردعمل ممکن ہو سکے۔ اسی مقصد کے تحت این ڈی ایم اے اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اپنے ذیلی ادارے مسلم ریسکیو مشن کے ذریعے ملک کے مختلف دریا کنارے واقع اضلاع میں ’’پری فلڈ موک ایکسرسائزز‘‘ کا انعقاد کیا ہے، جن کا مقصد رضاکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ، عوامی شعور کی بیداری اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے لیے عملی تیاری کو یقینی بنانا ہے۔
پری فلڈ موک ایکسرسائز ایک تربیتی سرگرمی ہے جس میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا عملی نمونہ پیش کرکے رضاکاروں اور متعلقہ اداروں کو ریسکیو، ابتدائی طبی امداد، متاثرین کے انخلا اور ہنگامی ردعمل کی مشق کرائی جاتی ہے۔ ایسی سرگرمیاں اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور آفات سے نمٹنے کی عملی تیاری کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
پاکستان 1950ء￿ کے بعد سے متعدد بڑے سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے۔ خصوصاً 2010ء￿ ، 2014ء￿  اور 2022ء￿ کے سیلابوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور قومی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ان سانحات نے واض ح کر دیا کہ صرف آفت کے بعد امدادی سرگرمیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ آفت سے پہلے تیاری، بروقت انخلا، مقامی سطح پر تربیت یافتہ رضاکاروں کی دستیابی اور موثر کمیونٹی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہی نقصانات کو کم کرنے کی ضمانت بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پیشگی تیاری کو آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے بڑے دریا، خصوصاً سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج، ملک کی زراعت اور معیشت کے لیے زندگی کی علامت ہیں، لیکن مون سون کے موسم میں یہی دریا تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ ان کے کناروں پر آباد بستیاں اور شہر سیلابی خطرات کا سب سے پہلے سامنا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں شدید بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور اچانک سیلابی ریلوں کے امکانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر صرف حفاظتی پشتوں کی تعمیر کافی نہیں بلکہ مقامی آبادی کی مسلسل تربیت اور بروقت تیاری بھی ناگزیر ہے۔
اسی پس منظر میں مسلم ریسکیو مشن نے لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، بہاولپور، ملتان، جھنگ، فیصل آباد، چنیوٹ اور دیگر دریا کنارے واقع اضلاع میں پری فلڈ موک ایکسرسائزز کا انعقاد کیا۔ ان مشقوں میں سیکڑوں تربیت یافتہ رضاکاروں نے حصہ لیا جبکہ فائبر ریسکیو بوٹس، لائف جیکٹس اور جدید ریسکیو آلات کا عملی استعمال کیا گیا۔ ممکنہ سیلابی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر ریسکیو، سرچ اینڈ ریسکیو، متاثرین کے انخلا، ابتدائی طبی امداد اور ایمرجنسی رسپانس کی مختلف سرگرمیوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا تاکہ رضاکار حقیقی صورتحال میں زیادہ موثر انداز میں خدمات انجام دے سکیں۔
ان مشقوں میں ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی، سول ڈیفنس، ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی شرکت کی۔ مختلف اداروں نے اپنے ریسکیو وسائل، ایمرجنسی رسپانس سسٹمز اور خدمات کی نمائش کی جبکہ آگاہی کیمپس کے ذریعے عوام کو سیلابی خطرات، احتیاطی تدابیر اور ہنگامی صورتحال میں اختیار کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ مسلم ریسکیو مشن کے انچارج ابرار وحید نے شرکاء￿ کو واٹر ریسکیو یونٹ، فائبر بوٹس، لائف جیکٹس اور دیگر حفاظتی وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے بریفنگ دی جبکہ تربیت یافتہ رضاکاروں نے مختلف عملی مشقوں کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
مرکزی مسلم لیگ کی خدمات صرف تربیتی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ گزشتہ سیلابوں کے دوران بھی اس کے رضاکار متاثرہ علاقوں میں سرگرم عمل رہے ہیں۔ ہنگامی امدادی کارروائیوں کے دوران ہزاروں متاثرہ خاندانوں تک پکا ہوا کھانا، صاف پانی اور راشن پہنچایا گیا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے، مفت ادویات تقسیم کی گئیں اور وبائی امراض کی روک تھام کے لیے آگاہی مہمات چلائی گئیں۔ اسی طرح بے گھر خاندانوں کے لیے عارضی رہائش اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بھی معاونت فراہم کی گئی۔ ان سرگرمیوں نے متاثرین کو نہ صرف عملی مدد فراہم کی بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلایا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ تنہا نہیںہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے موجودہ تناظر میں پاکستان کے لیے مستقبل کے چیلنجز مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آنے والے برسوں میں شدید بارشوں اور سیلابی خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں صرف حکومتی اداروں پر انحصار کافی نہیں ہوگا بلکہ سماجی تنظیموں، نجی شعبے اور عام شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ جدید ٹیکنالوجی، موثر وارننگ سسٹمز، مستقل تربیت اور عوامی شعور کی بیداری ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی ممکنہ آفت کے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اس نئے دور میں صرف سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے سیلاب سے پہلے تیاری کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ پری فلڈ موک ایکسرسائزز اسی سوچ کی عملی تعبیر ہیں جو ایک محفوظ، باخبر اور آفات کا مقابلہ کرنے والے معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ اور مسلم ریسکیو مشن کی جانب سے کی جانے والی یہ کاوشیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ بروقت تیاری، منظم منصوبہ بندی اور اجتماعی ذمہ داری ہی ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔