وادی تیراہ پر ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کئے گئے ہیں‘جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برف باری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے
22بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے:وزیراعلی خیبرپختونخوا
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا لیکن انہیں مجبور کیا گیا برف باری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں۔ وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو رجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشت گرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ اور ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے۔انہوں نے کہا ہم نے خبردار کیا پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشت گردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلے اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔ جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ ہوئی اور آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے۔