سینیٹر فیصل واؤڈا نے سینیٹ اجلاس کے دوران ایف بی آر کی جانب سے ایک ہزار گاڑیاں خریدنے کے معاملے پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے اپنے مالیاتی ہدف کو پورا نہیں کیا، جو کہ 384 ارب روپے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی خریداری کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی اشتہار یا آگاہی نہیں دی گئی اور یہ فیصلہ کیسے کیا گیا، اس پر بھی سوالات اٹھائے۔فیصل واؤڈا نے وزیرِ دفاع پر الزام عائد کیا کہ وہ کسی فیورٹ شخصیت کا دفاع کر رہے ہیں، جس کا تعلق کسی اور کے فیورٹ سے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں کی خریداری کا فیصلہ کابینہ کا تھا، اور اسی طرح 190 ملین پاؤنڈ کے معاہدے کا بھی کابینہ کا فیصلہ تھا جس پر بعد میں سزا دی گئی تھی۔ واؤڈا کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں غلطی تھی اور وزیرِ خزانہ اور ن لیگ کی جانب سے اس فیصلے کی حمایت کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں سستی گاڑیاں بھی خریدی جا سکتی تھیں، لیکن حکومت نے مہنگی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا۔ فیصل واؤڈا نے اس پورے معاملے کو چوری، بدمعاشی، اور غنڈہ گردی کے طور پر بیان کیا، اور اس پر شدید تنقید کی۔