پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سڑکوں کی سیاست کرنے کے قابل ہیں، لیکن تصادم کی بجائے مفاہمت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر مفاہمت کرنی ہے تو سیاسی مقدمات اور پرچے کیوں درج کیے جا رہے ہیں۔ عالیہ حمزہ نے مزید کہا کہ عوام کے فیصلے کا احترام نہیں کیا گیا اور پارٹی کے بانی عمران خان کو بے گناہ جیل میں رکھا گیا ہے جس سے ملک کی سیاسی صورتحال خراب ہو گئی ہے، لیکن پی ٹی آئی کا مقصد ملک میں استحکام لانا ہے۔عالیہ حمزہ نے 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس جانے کا اعلان کیا، اور کہا کہ ان کا جلسہ عوام کے حق میں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب تک فارم 45 یا فارم 47 نہیں ملے، اور یہ سوال کیا کہ اگر وہ جیت چکے ہیں تو فارم 45 اور 47 کیوں نہیں دیے جا رہے ہیں۔انہوں نے اپنے مقدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کا حق ہے کہ فارم 45، 46، اور 47 کی کاپیاں ان کو فراہم کی جائیں، مگر انہیں عدالت میں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ درخواست گزار بات نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے ان پر اعتماد کیا ہے اور وہ اس اعتماد کا بھرپور احترام کرتی ہیں۔اس کے علاوہ، عالیہ حمزہ نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے بارے میں بھی بات کی، جس میں این اے 118 کے حلقے میں حمزہ شہباز کی کامیابی کے خلاف ان کی درخواست پر سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ ان کے وکیل نے ایک اور درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز فارم 45 اور فارم 47 الیکشن ٹریبونل میں جمع کروائیں اور الیکشن کمیشن ان فارموں کی مصدقہ کاپیاں 8 فروری تک فراہم کرے۔عالیہ حمزہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ پی ٹی آئی کا عہدہ ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور وہ پاکستانی عوام کی آواز بن کر ان کے حقوق کی جنگ لڑیں گی۔