سعودی عرب کی تیل کی قیمتوں میں مارچ 2025 کے لیے متوقع اضافہ

سعودی عرب کی تیل کی قیمتوں میں مارچ 2025 کے لیے متوقع اضافہ

سعودی عرب کے حکام کے مطابق، مارچ میں سعودی تیل کی قیمتوں میں 2 سے 2.5 ڈالر فی بیرل تک اضافے کا امکان ہے۔

 اس اضافے کی وجہ چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک کی بڑھتی ہوئی طلب اور امریکا کی طرف سے روسی تیل پر عائد پابندیوں کے اثرات ہیں، جو خلیج کے ممالک کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔یہ اضافہ سعودی تیل کی قیمتوں میں جنوری 2022 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہو گا۔ سعودی تیل کمپنی آرمکو کے سی ای او امین الناصر نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ سال 2024 کے وسط تک تیل کی یومیہ طلب 104.6 ملین بیرل تک پہنچ جائے گی اور اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ سعودی عرب نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ تیل کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا اور 2024 کے آخر تک یومیہ 106 ملین بیرل تک پیداوار پہنچ جائے گی۔

سعودی تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایشیائی خریداروں کے لیے اہم ثابت ہوگا کیونکہ سعودی عرب اس وقت تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کر رہا ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے اور دیگر عالمی معاملات میں بھی سعودی عرب کی اقتصادی پوزیشن مستحکم ہو۔یہ اضافے سعودی تیل کی قیمتوں کو عمان اور دبئی کے معیار سے کم از کم 3.50 ڈالر فی بیرل زیادہ کر دے گا۔