بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع پلوال میں گائے کے حوالے سے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک مسلمان نوجوان یوسف کو مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوسف اپنے ٹرک میں ایک گائے اور بچھڑا لے جا رہا تھا اور اس نے ہجوم کو بتایا کہ دونوں جانور بیمار ہیں اور ان کا علاج کروا کر واپس گھر جا رہا ہے۔ تاہم، ہجوم نے اس کی بات نہ سنی اور اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔یوسف اور اس کے ساتھ موجود ٹرک کے ڈرائیور کو لاٹھیوں، گھونسوں، اور لاتوں سے مارا گیا۔ یوسف کی حالت بگڑ گئی اور اسے مقامی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد اسے دہلی کے ایک بڑے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا اور اس کی موت ہو گئی۔ اس کے ساتھی ٹرک ڈرائیور کو بھی شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، اور اس کی حالت ابھی بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔بھارتی پولیس نے یوسف کی ہلاکت کے معاملے میں 10 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے، لیکن ابھی تک کسی بھی ملزم کی گرفتاری نہیں کی گئی۔
گائے کو ذبح کرنے پر پابندی کے بعد سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ گاؤ ماتا کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔یہ واقعہ ایک بار پھر بھارتی ہندوتوا پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو مسلمانوں کو اپنے مذہبی عقائد کی بنا پر نشانہ بناتی ہیں، خاص طور پر گائے کے ذبح کے مسئلے پر۔