کرپشن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

 ندیم ملک
کرپشن محض مالی بدعنوانی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک فکری، اخلاقی اور سماجی بیماری ہے جو ریاست کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب قانون کمزور اور ضمیر خاموش ہو جائے تو کرپشن نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہے؟ تاریخ اور مفکرین کی آراء￿  ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں
برطانوی مفکر Francis Bacon نے کہا تھا: Knowledge is power یعنی علم طاقت ہے۔ اگر معاشرہ باشعور ہو جائے تو بدعنوان عناصر کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح فرانسیسی فلسفی Montesquieu کا قول ہے کہ Power should be a check to power یعنی طاقت کو طاقت ہی قابو میں رکھتی ہے۔ یہ تصور احتساب، ادارہ جاتی توازن اور آئینی نگرانی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جب اختیارات کی تقسیم واضح ہو اور ادارے خود مختار ہوں تو کرپشن کے امکانات کم ہو جاتے ہیں
مشرق میں بھی اس مسئلے پر گہری فکر موجود ہے۔ شاعرِ مشرق  علامہ اقبال نے خودی، کردار اور امانت داری کو قوموں کی زندگی قرار دیا۔ اقبال کے نزدیک فرد کی اصلاح کے بغیر قوم کی اصلاح ممکن نہیں۔ اگر فرد اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہو جائے تو قانون کی لاٹھی کم استعمال ہوگی۔ چینی مفکر Confucius نے کہا تھا: ‘‘حکمران کی دیانت عوام کے اخلاق کا معیار بن جاتی ہے۔’’ یعنی قیادت کا کردار پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے
سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو کرپشن زیادہ تر وہاں جنم لیتی ہے جہاں شفافیت کم اور اختیارات زیادہ ہوں۔ برطانوی مورخ Lord Acton کا مشہور قول  ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غیر محدود اختیار بدعنوانی کو جنم دیتا ہے۔ اس کا حل مضبوط پارلیمان، آزاد عدلیہ اور بااختیار احتسابی ادارے ہیں۔ جب تک احتساب بلا امتیاز نہ ہو، کرپشن کا خاتمہ خواب ہی رہے گا
سماجی سطح پر ہمیں اپنی اقدار کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہم اکثر چھوٹی بدعنوانی کو ‘‘چالاکی’’ یا ‘‘مجبوری’’ کا نام دے کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہی رویہ بڑی کرپشن کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر ہم رشوت دینے والے کو بھی اتنا ہی مجرم سمجھیں جتنا لینے والے کو، تو تبدیلی کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ معاشرتی بائیکاٹ، سماجی دباؤ اور اخلاقی تعلیم اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
صحافت کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ آزاد اور ذمہ دار صحافت کرپشن کو بے نقاب کرتی ہے۔ امریکی صحافی Joseph Pulitzer نے کہا تھا  اگر صحافت خود بدعنوان ہو جائے تو معاشرہ بھی بگڑ جاتا ہے۔ لہٰذا صحافی کا قلم امانت ہے۔ تحقیقاتی صحافت، شفاف معلومات اور حقائق کی بروقت فراہمی کرپشن کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہیں
تعلیمی اور علمی میدان میں بھی اصلاح ناگزیر ہے۔ نصاب میں دیانت، امانت اور شہری ذمہ داری کے مضامین شامل کیے جائیں۔ طلبہ کو یہ سکھایا جائے کہ قومی وسائل عوام کی امانت ہیں۔ اگر نئی نسل میں یہ شعور پیدا ہو جائے تو آنے والے کل کا نظام بہتر ہو سکتا ہے۔ جرمن فلسفی 
Immanuel Kant نے اخلاقی قانون کو انسان کے اندرونی ضمیر سے جوڑا۔ ان کے مطابق اصل احتساب انسان کا اپنا ضمیر ہے
ادبی حوالے سے دیکھا جائے تو ادب ہمیشہ ظلم اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے۔ اردو ادب میں کئی شعرا اور ادبا نے معاشرتی ناانصافی کو موضوع بنایا۔ ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے اور جب آئینہ صاف ہو تو چہرے کی میل بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ ادیب کا قلم ضمیر کی عدالت قائم کرتا ہے، جہاں نہ سفارش چلتی ہے نہ دباؤ
معاشی اصلاحات بھی کرپشن کے خاتمے میں اہم ہیں۔ پیچیدہ قوانین، غیر ضروری اجازت نامے اور سرخ فیتہ بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں۔ نظام جتنا سادہ اور ڈیجیٹل ہوگا، انسانی مداخلت کم ہوگی اور رشوت کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ دنیا کے کئی ممالک نے ای گورننس کے ذریعے شفافیت کو فروغ دیا اور نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
یہ بات ہمیں تسلیم کرنا ہوگی کہ کرپشن کا خاتمہ نعروں سے ممکن نہیں ہے  اس کے لیے اجتماعی عزم، اخلاقی تربیت، مؤثر قانون سازی، شفاف سیاست، ذمہ دار صحافت اور معیاری تعلیم کی ضرورت ہے۔ جب فرد، معاشرہ اور ریاست ایک صفحے پر آ جائیں تو بدعنوانی کے اندھیرے چھٹ سکتے ہیں
کرپشن کے خلاف جنگ دراصل ضمیر کی بیداری کی جنگ ہے۔ اگر ہم اپنے اندر سچائی، دیانت اور انصاف کو جگہ دیں تو معاشرہ خود بخود بدلنے لگے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک باوقار، مضبوط اور خوشحال قوم بنا سکتا ہے