چین نے تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کے معاملے پر 7 امریکی کمپنیوں اور ان کی اعلیٰ انتظامیہ پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اعلان کیا کہ یہ اقدام امریکا کی جانب سے تائیوان کی فوجی امداد کو چین کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے خلاف مداخلت کے طور پر دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
پابندی کی زد میں آنے والی کمپنیاں
پابندیوں کا سامنا کرنے والی کمپنیوں میں انسیٹو انکوپوریٹ، ہڈسن ٹیکنالوجیز، سرانک ٹیکنالوجیز، رائتھن کینیڈا، رائتھن آسٹریلیا، ایئر کوم انکوپوریٹ اور اوشی نرنگ انٹرنیشنل شامل ہیں۔
پابندیوں کے اثرات
چینی وزارتِ خارجہ نے ان کمپنیوں کے چین میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ امریکا کو تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے پر چین سخت جوابی اقدامات اٹھائے گا۔
امریکی اقدام
گزشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے تائیوان کی فوجی امداد کے لیے 895 بلین ڈالر مختص کیے تھے، جس پر چین نے شدید اعتراض کیا ہے۔
چین کا موقف
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اس اقدام کو ایک چین پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ امریکا کا چینی خطرے کا پروپیگنڈا علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہے۔ چین نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔