لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس میں 96 فیصد صنعتوں میں اخراج کنٹرول سسٹم نصب کرنے کا سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔
اربن یونٹ کے سروے کے مطابق، لاہور کی صنعتوں میں ایئر کلیننگ سسٹم کی تعداد اپریل 2024 میں صرف 43 فیصد تھی، لیکن دسمبر 2024 تک یہ تعداد 96 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔احولیاتی تحفظ کے لیے اقدامات کے تحت 21 صنعتوں کو ای پی اے (ماحولیاتی تحفظ ایجنسی) نے قوانین کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا تھا۔ مزید یہ کہ، 27 مارچ سے 27 دسمبر تک لاہور کے 2883 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا گیا، جس میں 45.6 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے اور 225 یونٹس کو سربمہر کیا گیا۔ منہدم کیے جانے والے یونٹس کی تعداد 56 رہی۔محکمہ تحفظ ماحول نے لاہور اور دیگر شہروں میں ماحولیاتی آلودگی کی مانیٹرنگ کے لیے 25 اے کیواٸی مانیٹرنگ اسٹیشنز قائم کیے ہیں اور 35 مزید اسٹیشنز پر کام جاری ہے۔
وزیر مریم اورنگزیب نے عوام اور صنعتکاروں سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا کہ ماحولیاتی قوانین پر عمل نہ کرنے والے یونٹس کو دوبارہ کھولنے کے لیے انہیں ماحولیاتی معیار پر عمل کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صنعتی یونٹس کو ماحول دوست ٹیکنالوجی کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہی ہے اور انٹرنیشنل ماڈلز کو اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، محکمہ تحفظ ماحول کو جدید آلات اور اضافی اختیارات دیے جا رہے ہیں تاکہ لاہور کے صنعتی علاقوں میں ماحولیاتی قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جا سکے۔